طاقت، سفارت اور تصادم: خطے میں پاکستان کا نیا کردار عالمی سیاست کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں اس کی سفارت کاری محض دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ اور فیصلہ کن رخ اختیار کر چکی ہے۔ بین الاقوامی نظام میں طاقت کے توازن کی نئی تشکیل جاری […]
طاقت، سفارت اور تصادم: خطے میں پاکستان کا نیا کردار
عالمی سیاست کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں اس کی سفارت کاری محض دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ اور فیصلہ کن رخ اختیار کر چکی ہے۔ بین الاقوامی نظام میں طاقت کے توازن کی نئی تشکیل جاری ہے، اور اس عمل میں وہی ریاستیں ابھرتی ہیں جو نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر تنازعات کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار اسی نئی اسٹریٹیجک خود اعتمادی کی عکاسی کرتا ہے، جو اسے ایک فعال اور بااثر ریاست کے طور پر سامنے لا رہا ہے۔
پاکستان اب محض ایک ردعمل دینے والی ریاست نہیں رہا بلکہ ایک کلیدی تزویراتی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے جو خطے میں توازن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی کثیر الجہتی خارجہ پالیسی اسے مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات برقرار رکھنے کا موقع دیتی ہے، جس سے وہ کسی ایک بلاک کا محتاج نہیں رہتا۔ یہی خودمختار سفارتی رویہ ان قوتوں کے لیے ناقابلِ برداشت بنتا جا رہا ہے جو خطے میں اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتی ہیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اس تناؤ میں کمی لانے کے لیے پاکستان کا کردار نہ صرف ایک سفارتی کامیابی ہو سکتا ہے بلکہ یہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی تبدیل کر سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں مذاکرات کا دوسرا دور نہایت احسن طریق ہونے کو ہیں۔ پاکستان اگر اس کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو وہ ایک نئی طاقت کے طور پر اپنی حیثیت مزید مستحکم کر لے گا۔ دمیا کا ہر ذی شعور امن کا خیرخواہ چاہے خاص ہو یا عوام پاکستان کے کردار کو مختلف انداز سے نہ صرف سراہا رہا ہے بلکہ حمایت کر رہا ہے۔ پاکستان بلامبالغہ پوری دینا اور تاریخ کی توجہ حاصل کی بیٹھا ہے یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے مخالف قوتوں کی بے چینی شروع ہوتی ہے اور ان کے بغض سے بھرے سینوں پہ مونگ دل رہا ہے اور وہ زخمی، اعصاب شکن اور شکست خوردہ سانپ کی مانند لوٹ رہے ہیں۔
بھارت، جو خطے میں خود کو ایک غالب طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، پاکستان کے اس ابھرتے ہوئے کردار کو براہِ راست اپنے اسٹریٹیجک مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل، جو مشرق وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینا چاہتا ہے، پاکستان کی کسی بھی ایسی سفارتی کامیابی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو مسلم دنیا میں پاکستان کے مقام کو مضبوط کرے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں پاکستان کے خلاف ایک منظم ہائبرڈ جنگ جاری ہے۔ اسے بھارتی میڈیا کی ہیجان انگیزی اور غیر ذمہ دارانی صحافت سے باخوبی دیکھا جا سکتا ہے جس مین اینکر، تجزیہ کار اور پینل میں موجود ہندتووا کے زہر میں ڈوبے ریٹائرڈ جرنیل و دیگر افسران پاکستان کے ثالثی کے کردار کو پہ ہرزہ سرائی کرتے نظر آتے ہیں۔ حتی کہ ان کی اپنی عوام ان کی طرزفکر کو غیر مناسب گردانتی ہے کہ پاکستان امن کی بات کر رہا ہے اور عملی اقدامات میں پیش پیش ہے مگر گودی میڈیا یہ اصطلاح بھی خود انہی کی عوام نے استعمال کرنا شروع کی ہے، اس خطے پہ نہ صرف پوری دینا کے امن کو بحال کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ اس کے برعکس بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی کی ہر طرح سے مدد کر رہا ہے اس سوچ نے پاکستان دشمنوں کو بے حد بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کا وجود اس کا ہر مثبت قدم بھارت کو کبھی بھی ہضم نہیں ہوسکتا اور اس کے منفی جھوٹے پراپیگنڈا پہ اب کوئی یقین نہیں کر رہا بلکہ ان کی حکومت شدید ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے۔
یہ جنگ روایتی میدانوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں پراکسی عناصر کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہوں کی سرگرمیوں میں حالیہ اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹیجک ڈیزائن کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ عناصر پاکستان کے اندرعدم استحکام پیدا کرنے، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے، اور ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ خصوصاً بلوچستان میں جاری تخریبی کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان کے جیو اکنامک منصوبوں، بالخصوص چین-پاکستان اقتصادی راہداری، کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے اقتصادی گیم چینجر بن سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسے ہائبرڈ وارفیئر کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم رکھنے کی ایک مسلسل کوشش جاری ہے۔ لیکن یہ گروہ یہ بات بھول گئے ہیں کہ جس شیطانی قوت بھارت کی شہ پہ جو مزموم حرکات جاری رکھے ہوئے ہیں اسے پاکستان ہر محاذ پہ مسلسل دھول چٹائے جا رہا ہے اور ہر طرح سے دینا سے الگ تھلگ کر چکا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں علحدگی پسندوں نے بھارت کا مکمل طور پہ جینا دو بھر کر رکھا ہے جس کی بنیادی وجہ انہون نے کحی انسان کو انسان ہی نہِیں جانا بلکہ تمام اقلیتوں کے ساتھ ساتھ اپنے ہندووں تک پہ زندگی تنگ کر رکھی ہے ۔ یہی سوچ پروان چڑھانے کی خاطر بھارت بیرونی دنیا خصوصا اپنے ہمسایہ ملکوں میں کئی دہائیوں سے تخریب کاری انتہائی مکاری سے جاری رکھے ہوئے ہے لین اب دنیا اس کے مکروہ کردار کو نہ صرف جان چکی ہے بلکہ لعن طعن کر کے اس سے کنارا کشی کیے جا رہی ہے۔
ہائبرڈ جنگ کے اس ماڈل میں صرف عسکری کارروائیاں ہی شامل نہیں بلکہ معلوماتی جنگ بھی ایک اہم ہتھیار بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے، ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور داخلی تقسیم کو ہوا دی جا رہی ہے۔ یہ تمام عناصر مل کر ایک ایسی فضا پیدا کرتے ہیں جس میں ریاست کو بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ آپریشنز کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا، مگر اب جنگ کا انداز بدل چکا ہے۔ اب یہ ایک طویل عرصے پر محیط مخلوط نوعیت کا تنازع ہے، جس میں دشمن براہِ راست مقابلے کے بجائے اندرونی کمزوریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کے لیے پاکستان کو بھی اپنی حکمت عملی کو روایتی سے جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سفارت کاری کو مزید جارحانہ بنائے اور عالمی سطح پر ان عناصر کو بے نقاب کرے جو اس کے خلاف پراکسی جنگ میں ملوث ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹیلیجنس نظام کو مزید مضبوط بنانا، سرحدی کنٹرول کو مؤثر بنانا، اور داخلی سطح پر قومی یکجہتی کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ کیونکہ جب تک اندرونی استحکام مضبوط نہیں ہوگا، بیرونی محاذ پر کامیابی ادھوری رہے گی۔ مزید برآں، پاکستان کو اپنے بیانیے کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنا ہوگا۔ اسے یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ نہ صرف دہشت گردی کا شکار ہے بلکہ اس کے خلاف ایک فرنٹ لائن ریاست کے طور پر لڑبھی رہا ہے۔ اس کے لیے میڈیا، سفارت کاری، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمزکوایک مربوط حکمت عملی کے تحت استعمال کرنا ہوگا تاکہ عالمی رائے عامہ کو حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے۔
آخرکار، یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے جہاں پاکستان کو دفاعی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک اورجارحانہ سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ اسے اپنی سفارتی کامیابیوں کو سیکیورٹی اوراقتصادی استحکام کے ساتھ جوڑنا ہوگا، اور ہائبرڈ جنگ کے ہر پہلوکامؤثرجواب دینا ہوگا۔ اگر پاکستان اس چیلنج کو سمجھداری، یکجہتی اور طاقت کے ساتھ قبول کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنا سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط، خودمختار اور بااثر ریاست کے طور پرعالمی منظرنامے پر اپنی جگہ مستحکم کر سکتا ہے۔
© 2026 PPN - پرامن پاکستان نیٹ ورک