مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

مسلم ممالک کو بہت سی آزمائشوں کا سامنا ہے جسکے کثیر الجہتی اثرات ہیں ان کو زائل کرنے اور قبل از وقت اقدامات اٹھانا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے جب مختلف اسلام دشمن طاقتیں سازشوں اور تصادم کرنے میں پیش پیش ہوں تو دفاع کو جدید خطوط پہ استوار کرکے مسلم دنیا کے تحفظ کا یقینی بنانا نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ویسے بھی مسلمان قوم   کوجسد واحد کی مانند قرار دیا گیا جس کے ایک حصے میں درد ہو تو  مکمل جسم تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام جارح مذہب  نہ ہے اور نہ ہی جارحیت کی سوچ فروغ دیتا ہے لیکن دفاع کا پورا پورا حق دیتا ہے بلکہ دنیا کا دستور بھی یہی ہے کہ اپنی جان و مال کی بحرپور انداز میں حفاظت کی جائے۔  اسی تناظر میں وقت کی پکار سنتے ہوئے مسلم کے تین بڑوں جن میں پاکستان جسکی واحد ایٹمی طاقت ہے، سعودی عرب اور ترکی نے مسلم دنیا کی تکلیف کو سمجھتے ہوئے اور دفاعی چیلنجز کا جانتے ہوئے مشترکہ دفاعی سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے مکہ شہر، جس شہر کی قسم خود اللہ نے اٹھا کے اس کی عظمت کو بلند کیا، عین بیت اللہ کے سامنے مشترکہ معاہدہ پہ تینوں ممالک کے سربراہان نے عسکری قیادت کی موجودگی دستخط ثبت کر دیئے۔ جس کے مطابق کسی ایک ملک پہ حملہ تینوں فریقین  پر تصور کیا جائے گا اور موثر جوابی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے یقینی طور پہ دفاع کے لحاظ سے عوام الناس کا نہ صرف اعتماد بڑھا بلکہ آج دیرینہ خواہش کی تکمیل بھی ہوئی۔ یہ ایک تاریخ ساز عہد کا آغاز ہے اس مناسبت سے جشن کا سماں ہے اور ہر زبان شکر گزار ہے۔

 مختلف بحرانوں کا جوان مردی سے سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے حالات پڑوس  ایران کی کشیدگی ، طاغوتی سازش کے مطابق اسلامی ممالک میں تناؤ پیدا کرنا،  اس ساری صورتحال اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اپنا ہراول دستے کا کردار نبھاتے ہوئے اپنی بہترین سفارت کاری کے جوہر دکھائے۔ جس کی بدولت پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کے لیے ثالث کا کردار عملی طور پہ ادا کیا جس کے نتیجے میں اسلام آباد مذاکرات ہوئے جسے پوری دنیا نے سراہا اور پاکستان کا قدکاٹھ مزید بڑھا۔ اس سے قبل گزشتہ سال بھارت نے اپنا انجام ذہن میں نہ رکھ کے پاکستان پہ آپریشن سندور کے نام پہ شبخون مارا مگر پاکستان کی سپاہ اور دلیر قیادت نے اپنی غیور عوام کی مکمل حمایت سے سیسہ پلائی دیوار بن کر  جوابی اور خالصتاً دفاعی آپریشن بنیان المرصوص کا  آغازکیا  اور بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔نتیجتا  رافیل گرے اور را بھی فیل ہو گئی۔ بھارت کسی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ پاکستان کے وفود نے دنیا بھر میں جا کر بھارت ک مکروہ چہرے  نقاب اتار پھینکا  کہ کس طرح یہ ملک مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے اوراپنے تخریبی ارادوں کو عملی طور پہ پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک میں دہشت گردوں اور دہشت گردی کی ہر طرح سے حمایت کرتا آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت روزبروز انتہائی سفارتی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔اور دنیائے عالم اسے کسی طور بھی سنجیدہ لینے کو تیار نہیں۔ حالانکہ بھارت یہ کنواں پاکستان کے لیے تیار کر رہا تھا مگر اس میں آدھ موا ہو کے گرا اب کبھی کہیں بھاگتا ہے تو کبھی کہیں۔ اسی اثناء میں افغانستان کی حکومت نے بھی پاکستان میں دہشت گردی کو تقویت دینے کے لیے بھارت سے ہاتھ ملا لیا اور ان کے زمہ داران کہتے ہیں کہ ہمارا اور بھارت کا ڈی این اے ہےجو کہ واقعی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ پاکستان دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہا مگر یہاں کی عوام اور محافظین نے ملک کے امن اور دفاع کی خاطر کسی  بھی قربانی سے گریز نہیں کیا اور بیرونی آقاؤں کو خوش کر نے والے اِنسانیت سوز اقدام اٹھائے والے لعنت کے تمغے حاصل کر کے جہنم رسید ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دہشت گردی کی جنگ میں کامیاب مہارتوں اور آپریشنز چاہے اندورنی ملک میں یوں یا باہر کوئی حملہ کرنے جسارت کرے منہ توڑ جواب نے پاکستان کی عزت و وقار میں اضافہ کیا۔ اسی بہادری کی بدولت دفاع میں دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور ترکی اور سعودی عرب نے بجاتے ہوئے اپنی دفاعی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی خاطر دنیا کی پگڑی پاکستان کے سرپہ باندھ دی اور پگڑی ہمیژہ کامیاب اور ذمہ دار کو ہی پہنائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ اس معاہدے  سے قبل بھی پاکستان دفاعی شعبے میں تربیت، مشترک مشقوں اور دیگر امور پہ ان دونوں ممالک سے رابطے میں چلا آتا آ رہا ہے۔ کئی دہائیوں سے اسلامی جمہوریہ پاکستان سعودی عرب کی سپاہ کو پیشہ وارانہ تربیت دے رہا بلکہ مقامات مقدسہ کی حفاظت کی سعادت بھی سر انجام دیتا چلا آرہا ہے یہ صرف اس وجہ سے ممکن ہے کہ باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا کیونکہ دونوں ممالک کے مابین مشکل اور کٹھن وقت میں ایک دوسرے کے بازو مضبوط کیے اور کھڑے رہے۔ پاکستان کے لاکھوں کی تعداد میں مختلف پیشوں سے وابستہ افراد نے سعودیہ کی ترقی میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا جو ناقابلِ فراموش ہے جسے ساراسعودی عرب نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اس  کامیابی میں موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کی غیر معمولی کارکردگی شامل ہے جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔

جب کہ دوسری جانب پاکستان اور ترکی کے دیرینہ تعلقات باہم محبت اور اعتماد کو مضبوط سے مضبوط کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکی مشکل ترین آزمائش میں ایک دوسرے کے لیے حو صلہ افزا بن ہے رہے عسکری، انتظامی، تعلیم اور تجارت میں فقید المثال تعاون جاری رہا پاکستان اور ترکی فورسز نے مشترکہ مشقیں اور مہارتوں کا تبادلہ نہایت احسن طریقے سے کرتے آرہے ہیں۔حالیہ پاک بھارت جنگ میں ترکی نے ڈرونز سمیت دیگر دفاعی آلات پاکستان کو دیئے اور اس آپسی تعاون کو دیکھ دیکھ کے بھارت مودی سرکار کے پیٹ میں مروڑ اٹھتا چلا آرہا ہے اور وہ کبھی کچھ منفی پراپیگنڈہ کرتا ہے اور کبھی کچھ کرتا جیسے اس کے سینے پہ سانپ لوٹ رہا ہو مگر بے بسی سے بے چارا کچھ کر نہ پا رہا ہو ان کا اخبار ٹی وی ریڈیو سوشل میڈیا دیکھیں تو ہیجانی کیفیت میں مبتلا نظر آتا ہے اور دانت پسینے کے علاؤہ کچھ حاصل نہیں۔ آخر کار لمبی دیرپا سرمایہ کاری بلکہ یوں کہیے کہ تخریب کاری کا ستیا ناس ہوتا جا رہا اور ہر جگہ سے دم دبا کے بھاگنے پہ مجبور ہے ہندوتوا تو مسلط ہو نہیں نہیں رہا بلکہ اپنے لوگ بھی بھارتی سرکار کی پراگندہ حکمت عملی کی ناکامی پہ تھو تھو کرتے نظر آ رہے ہیں ۔مطلب واضح ہے کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے اور یہی حال افغان طالبان مسلط  کردہ حکومت کا ہےجس نے اپنے ملک میں تو لاقانونیت کا بازار تو گرم کیا ہوا ہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی دہشت گرد گروپوں کی مدد ، تربیت اور محفوظ پناہ گایں مہیا کیے بیٹھا ہے۔ حالانکہ پاکستان نے کیا کچھ نہیں  کیا افغانستان میں امن کی بحالی کی خاطر مگر وہ پاکستان دشمن عناصر کے ہتھے چڑھ چکا ہے۔ جسے افغانستان میں موجود ہر ذی شعور انتہائی  حقارت کی نگاہ سے دیکھ کر ان سے نالاں نظر آتا ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون عالمی سطح پر ایک نئے علاقائی شراکت داری کے ماڈل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس تعاون کی اصل کامیابی اس بات میں ہوگی کہ تینوں ممالک اپنی مشترکہ قوت کو امن، اقتصادی ترقی، انسانی بہبود، سفارت کاری، ٹیکنالوجی اور علاقائی استحکام کے لیے استعمال کریں۔اگر یہ شراکت داری کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے امن کے تحفظ، تنازعات کی روک تھام اور مشترکہ خوشحالی کا ذریعہ بنے تو اس کے اثرات صرف تینوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر مسلم دنیا میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ یہ اکٹھ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے اس معاہدے کا مستقبل یقینی طور پہ تابناک ہے کیونکہ اس سے تینوں ممالک بالخصوص پاکستان کو سازشی تخریبی اور دہشت گرد عناصر کا قلعہ قمع کرنے میں مدد ملے گی اور  ان شعبدہ بازوں کو کہیں پناہ نہیں ملے گی بلکہ ان کے آقا بھی دوڑے دوڑے پھرتے نظر آئیں گے کیونکہ بالی ووڈ اور زمینی حقائق میں بہت فرق ہے جہاں ری ٹیک اور خوابوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس معاہدے نہ بڑے بڑے ایوانوں اور شیطانوں میں کھلبلی مچا دی ہے مگر بارہا بتایا جا چکا ہے کہ یہ جارحیت کی خاطر نہیں دفاع کی خاطر کیا گیا ہے لہذا یہ دنیائے عالم میں امن و امان کو قائم رکھنے میں نمایاں مقام حاصل کرے گا کیونکہ اس معاہدے میں دنیا کی یکسر حالت بدلنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ مبت بیانیے ، علاقائی تعاون، امن و عامہ کی مستحکم ضمانت کو تقویت ملےگی اوراسی سے معیشت کا پہیہ بھی باقاعدہ دوڑے گا۔ اور یہی اس کی پائدار کامیابی ہوگی۔