پاکستان کا غیر مادی ثقافتی ورثہ: دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف امن، شناخت اور انسانیت کا پیغام

17 اکتوبر عالمی یومِ غیر مادی ثقافتی ورثہ

کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، سرحدوں، معیشت یا عسکری صلاحیت میں نہیں ہوتی؛ وہ ان اقدار، کہانیوں، زبانوں، گیتوں، ہنروں اور روایات میں بھی زندہ رہتی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں اور انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔ یہی غیر مادی ثقافتی ورثہ کسی قوم کی روح، اجتماعی یادداشت اور تہذیبی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان میں پہاڑوں کی وادیوں سے صحراؤں تک، دریاؤں کے کناروں سے خانقاہوں اور میلوں تک، لوک داستانیں، صوفیانہ شاعری، روایتی موسیقی، دستکاری، مہمان نوازی اور مقامی زبانیں انسانی تجربے اور اجتماعی دانش کا وسیع خزانہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ بلتی، شینا، بروشسکی، پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی، ہندکو، براہوی اور دیگر زبانوں میں محفوظ یہ ورثہ محض ماضی کی یاد نہیں؛ یہ آج بھی ہماری شناخت اور باہمی تعلق کی تشکیل کرتا ہے۔

جب معاشرہ دہشت گردی، مذہبی و نسلی تعصب، عدم برداشت اور پُرتشدد انتہاپسندی جیسے خطرات کا سامنا کر رہا ہو تو اس ورثے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ مؤثر سکیورٹی اقدامات، قانون کی حکمرانی اور جواب دہ اداروں کے بغیر ممکن نہیں، لیکن پائیدار امن کے لیے ان سماجی اور فکری بنیادوں کو بھی مضبوط کرنا ضروری ہے جو تشدد کو رد، اختلاف کو برداشت اور ہر انسان کی حرمت تسلیم کرتی ہیں۔ ثقافت سکیورٹی اداروں کا متبادل نہیں، مگر یہ ایسا سماجی حصار بن سکتی ہے جو انتہاپسندانہ سوچ کے لیے حمایت حاصل کرنا مشکل بنائے، نوجوانوں کو مثبت شناخت دے اور برادریوں کے درمیان اعتماد، مکالمے اور تعاون کو فروغ دے۔ عالمی یومِ غیر مادی ثقافتی ورثہ پاکستان کے لیے اسی لیے محض جشن کا موقع نہیں، بلکہ اپنی تہذیبی قوت کو امن اور قومی یکجہتی کی عملی حکمتِ عملی میں بدلنے کی یاد دہانی ہے۔ یونیسکو نے 2023  ءمیں اس عالمی دن کے آغاز کا اعلان کیا تاکہ ان زندہ روایات، علوم، ہنروں، فنون، رسومات اور سماجی طریقوں کی اہمیت اجاگر ہو جو معاشرے اپنے بزرگوں سے سیکھتے اور اگلی نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ ان روایات کو کیسے محفوظ رکھا جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ انہیں ایسا معاشرہ بنانے کے لیے کیسے بروئے کار لایا جائے جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے اور مختلف شناختیں مشترکہ قومی و آئینی دائرے میں احترام کے ساتھ ساتھ رہ سکیں۔ انتہاپسندی اکثر اس وقت جگہ بناتی ہے جب اختلاف کو دشمنی میں بدل دیا جائے، سماجی اعتماد ٹوٹنے لگے، نوجوان اپنی شناخت اور مقصد سے کٹ جائیں اور عدم برداشت کو کسی بلند مقصد کے نام پر جائز قرار دیا جائے۔ ثقافت اس کے برعکس یہ سکھاتی ہے کہ اپنی روایت پر فخر کے لیے دوسرے سے نفرت ضروری نہیں، اور قومی یکجہتی کے لیے ہر شخص کا یکساں ہونا لازم نہیں۔

پاکستان کا ثقافتی منظرنامہ کسی ایک زبان، علاقے یا روایت تک محدود نہیں۔ گلگت بلتستان کی پہاڑی وادیوں، خیبر پختونخوا کی روایات، سندھ کے صحراؤں، پنجاب کے میدانوں اور بلوچستان کے ثقافتی رنگوں سمیت ہر خطہ قومی شناخت میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ زبانیں اس تنوع کی بنیادی حامل ہیں: ان کے محاوروں میں زندگی کا تجربہ، شاعری میں محبت، جدائی، انصاف اور وقار کے تصورات، جبکہ لوک داستانوں میں فرد اور معاشرے کے تعلقات محفوظ ہیں۔ جب بچے اپنی مادری زبان اور علاقائی روایت سے واقف ہونے کے ساتھ پاکستان کی مشترکہ تاریخ، آئینی اقدار اور شہری ذمہ داریوں کو بھی سمجھتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ وطن سے محبت کے لیے اپنی مقامی شناخت ترک کرنا ضروری نہیں۔ اس کے برعکس انتہاپسندانہ بیانیے شناخت کو تنگ اور یک رخی بنا کر معاشرے کو وفادار و غدار یا قابلِ قبول و ناقابلِ قبول گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ثقافتی تعلیم اس تقسیم کو چیلنج کر تی ہے، تاہم ورثے کے تحفظ کا مطلب ہر قدیم رسم کو بلا تنقید زندہ رکھنا نہیں؛ ایسی روایات کو فروغ دینا چاہیے جو انسانی وقار، مساوی شہریت، بنیادی حقوق اور پُرامن بقائے باہمی سے ہم آہنگ ہوں۔ پاکستان کا صوفیانہ اور ادبی ورثہ بھی امن کے قومی بیانیے کے لیے گراں قدر سرمایہ ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی، بلھے شاہ، خواجہ غلام فرید، رحمان بابا، سلطان باہو اور دیگر شعرا کے کلام میں محبت، عاجزی، خود شناسی، انسان دوستی اور تکبر سے گریز جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ یہ شاعری کتابوں تک محدود نہیں رہی؛ گھروں، درگاہوں، میلوں اور موسیقی کی محفلوں میں لوگوں کی اجتماعی زندگی کا حصہ بنتی رہی ہے۔ اس ورثے کی معنویت صرف ادبی خوب صورتی میں نہیں بلکہ ان اخلاقی سوالات میں بھی ہے جو یہ اٹھاتا ہے: اگر مذہبی وابستگی ہمدردی سے خالی ہو تو اس کا انسانی فائدہ کیا ہے؟ اگر علم عاجزی کے بجائے غرور پیدا کرے تو اس کی قدر کیا رہ جاتی ہے؟ کیا کسی دوسرے کی تذلیل کرکے اخلاقی برتری کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے؟ پُرتشدد نظریات اکثر اپنے ظلم کو مطلق حقانیت کے دعووں سے جائز ثابت کرتے ہیں؛ ثقافتی اور روحانی روایت لوگوں کو ایسے دعووں پر غور کرنے اور عقیدے کو نفرت و تشدد سے الگ پہچاننے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے کسی ایک روحانی روایت کو قومی شناخت کا واحد قابلِ قبول اظہار بنانا درست نہیں؛ اصل ضرورت تمام مذہبی اور ثقافتی شناختوں کے احترام اور پُرامن مکالمے کے لیے جگہ پیدا کرنے کی ہے۔ پاکستان کی لوک داستانیں بھی امن اور انسانی تعلقات کے بارے میں بامعنی سبق فراہم کرتی ہیں۔ ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، سسی پنوں اور مختلف علاقوں کی دوسری داستانیں اس لیے زندہ ہیں کہ ان میں محبت، وفاداری، ناانصافی، قربانی اور سماجی رکاوٹوں سے نبردآزما ہونے جیسے انسانی تجربات موجود ہیں۔ ان کہانیوں کو اسکولوں، کتب خانوں، مقامی تھیٹروں اور ڈیجیٹل ذرائع میں نئے انداز سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ استاد کسی داستان کے ذریعے تعصب اور عدم برداشت کے نتائج واضح کر سکتا ہے؛ تھیٹر گروپ دکھا سکتا ہے کہ افواہیں کس طرح تعلقات کو نقصان پہنچاتی ہیں؛ نوجوان فلم ساز یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ تشدد سے انکار اور امن کا راستہ اختیار کرنے کے لیے بھی حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ ایسے تخلیقی طریقے بچوں اور نوجوانوں کو محض لیکچر سننے کے بجائے سوال کرنے، سوچنے اور اپنے تجربات سے نتیجہ اخذ کرنے کا موقع دیتے ہیں۔

انتہاپسندانہ بھرتی میں بعض اوقات نوجوانوں کی محرومی، تذلیل، شناخت کی تلاش اور کسی مقصد سے وابستہ ہونے کی خواہش کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے مواقع نہ ملیں تو تشدد پسند عناصر انہیں تصادم کے ذریعے اہمیت حاصل کرنے کا جھوٹا تصور دے سکتے ہیں۔ تحریر، موسیقی، تھیٹر، کہانی نویسی، دستکاری، تحقیق، کھیل اور سماجی خدمت نوجوانوں کو وابستگی اور مقصد کے پُرامن راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں ہر صورت انتہاپسندی ختم نہیں کرتیں، لیکن سماجی روابط، تنقیدی سوچ، خود اعتمادی اور تعاون کے مواقع بڑھا سکتی ہیں۔ جو معاشرہ نوجوانوں کو تخلیق کا موقع دیتا ہے، وہ ان عناصر کا مقابلہ بہتر طور پر کر سکتا ہے جو تباہی کو اہمیت حاصل کرنے کا واحد راستہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ روایتی میلے، موسمی تقریبات، لوک موسیقی، مشاعرے، کھیلوں کے مقابلے اور مقامی ثقافتی اجتماعات لوگوں کو روزمرہ کی تقسیم سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دیتے ہیں۔ نوروز، فصلوں سے وابستہ تقریبات، روایتی پولو، لوک رقص اور علاقائی میلے مختلف برادریوں کی خوشیوں اور تاریخی یادداشت کی عکاسی کرتے ہیں۔ دہشت گردی، نقل مکانی، فرقہ وارانہ کشیدگی یا طویل بدامنی سے متاثرہ علاقوں میں خوف لوگوں کا میل جول محدود کر سکتا ہے؛ مقامی ضرورتوں کے مطابق منعقد ہونے والی ثقافتی سرگرمیاں معمولاتِ زندگی کی بحالی اور اعتماد کی تعمیر میں مدد دے سکتی ہیں۔ اگر کسی ضلع کے میلے میں طلبہ، خواتین دست کار، فن کار، مقامی مؤرخین، اساتذہ، مذہبی و سماجی رہنما اور نوجوان تنظیمیں شریک ہوں، اپنی روایات پیش کریں اور علاقے کی بہتری کے لیے مشترکہ منصوبے بنائیں تو اجتماع تفریح سے آگے بڑھ کر تعاون کا موقع بن سکتا ہے۔ تاہم ثقافتی تقریبات کو ناانصافی، بے روزگاری، امتیاز یا عدم تحفظ جیسے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ دیرپا اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب سرگرمیاں مقامی ضروریات سے جڑی ہوں، تمام طبقات کو شرکت کا موقع ملے اور ان کے ساتھ انصاف، عوامی خدمات اور شہری شمولیت کی وسیع تر کوششیں بھی جاری ہوں۔

غیر مادی ثقافتی ورثے کی حفاظت میں خواتین کا کردار بنیادی ہے۔ لوریاں، زبانی تاریخ، روایتی کڑھائی، کھانوں کی ترکیبیں، دستکاری، خاندانی روایات اور اجتماعی تقریبات کے ذریعے خواتین ایسا علم آگے منتقل کرتی رہی ہیں جو اکثر تحریری تاریخ میں جگہ نہیں پاتا۔ وہ اس ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ مقامی تعلقات مضبوط، معاشی سرگرمیاں فعال اور نوجوانوں کی رہنمائی بھی کر سکتی ہیں۔ مگر اس کردار کو محض فطری ذمہ داری سمجھ کر خواتین پر اضافی بوجھ ڈالنا مناسب نہیں؛ اس کے لیے تحفظ، ادارہ جاتی معاونت، معاشی مواقع اور فیصلہ سازی میں حقیقی شرکت ضروری ہے۔ خواتین کی قیادت میں ثقافتی مراکز اور دست کاری کے اشتراکی ادارے قائم کیے جا سکتے ہیں جہاں روایتی ہنر کے ساتھ خواندگی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، کاروباری تربیت اور مکالمے کے مواقع بھی ہوں۔ خواتین کو نمائشی شرکت تک محدود رکھنے کے بجائے ماہرین، منتظمین اور فیصلہ سازوں کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔انتہاپسند تنظیمیں جسمانی تشدد کے ساتھ شناخت، تاریخ، مذہب اور حب الوطنی کی تعریف پر اثرانداز ہونے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ وہ متنوع روایات کو مسترد کر سکتی ہیں یا مقامی شناخت اور محرومی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔ اس کا جواب محض جذباتی ردعمل نہیں، بلکہ ایسا معتبر بیانیہ ہونا چاہیے جو مقامی تجربات سے جڑا ہو، تنوع کا احترام کرے اور امن، انصاف اور شہری حقوق کو ایک دوسرے سے مربوط سمجھے۔ اس ضمن میں جائز سیاسی اظہار اور دہشت گردی کی حمایت کے درمیان واضح فرق ضروری ہے: حکومت پر تنقید، حقوق کا مطالبہ اور پُرامن جدوجہد پُرتشدد انتہاپسندی کے مترادف نہیں۔ ایسا بیانیہ ہی قابلِ اعتماد ہو سکتا ہے جو ناانصافی کو تسلیم کرے اور اس کے حل کے لیے آئینی، قانونی اور پُرامن راستوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ ثقافتی ماہرین، مؤرخین، شعرا، اساتذہ، مذہبی رہنما اور مقامی سماجی شخصیات اس کام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کے اپنے معاشروں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم اس کوشش کو وسیع تر سامعین تک پہنچا سکتے ہیں۔ لوک فن کاروں پر مختصر دستاویزی فلمیں، علاقائی تاریخ پر پوڈکاسٹ، دست کاروں کے انٹرویوز، بچوں کے لیے تصویری کہانیاں اور متعدد زبانوں میں ثقافتی مہمات نوجوانوں کو اپنے ورثے سے جوڑ سکتی ہیں۔ تاہم یہ مواد مستند، تحقیق پر مبنی، دلچسپ اور مقامی زبانوں میں ہونا چاہیے۔ پیچیدہ ثقافت کو چند نعروں یا محض پروپیگنڈے میں بدل دینا اس کی ساکھ کمزور کر سکتا ہے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پُرامن، جامع اور ثقافتی بنیادوں سے جڑے خیالات ان ڈیجیٹل جگہوں پر مؤثر انداز میں پہنچیں جہاں نوجوان اپنی رائے اور تصورات تشکیل دیتے ہیں۔ ثقافتی ورثہ معاشی اور سماجی استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ روایتی دستکاری، موسیقی، کہانی گوئی، کھانوں کے فنون، لوک فن اور ذمہ دارانہ ثقافتی سیاحت نوجوانوں، خواتین اور کم ترقی یافتہ علاقوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ جب دست کاروں اور فن کاروں کو مناسب آمدنی نہ ملے تو نئی نسلیں ان ہنروں سے دور ہونے لگتی ہیں اور نسلوں کے درمیان علم کی منتقلی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ہنر کی بہتری، شاگردی، آن لائن کاروبار، مالیاتی تربیت، دانش ورانہ ملکیت کے حقوق اور منڈیوں تک منصفانہ رسائی روایتی مہارتوں کو جدید معاشی مواقع سے جوڑ سکتی ہے۔ مگر ثقافت کی تجارتی قدر بڑھاتے ہوئے مقامی برادریوں کے حقوق، رضامندی اور مناسب معاوضے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ثقافتی سیاحت بھی اسی وقت پائیدار فائدہ دے سکتی ہے جب سلامتی، بنیادی سہولتیں اور ذمہ دارانہ انتظام موجود ہوں۔ پاکستان کو وقتی تقریبات سے آگے بڑھ کر ایسا مستقل پروگرام تشکیل دینا چاہیے جو زندہ ثقافتی ورثے کو تعلیم، سماجی ہم آہنگی اور پُرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام سے جوڑے۔ پاکستان نے 2003 ءکے یونیسکو کنونشن برائے غیر مادی ثقافتی ورثہ کی  2005 میں توثیق کی تھی۔ یونیسکو کے ریکارڈ میں پاکستان کی متعدد روایات شامل ہیں، جن میں نوروز، بازداری کا روایتی فن، ثری جگیک اور بوریندو کی روایت نمایاں ہیں؛ بوریندو کو 2025  ءمیں فوری تحفظ کے متقاضی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ یہ مثالیں اس ورثے کی وسعت اور ان روایات کے تحفظ کی ضرورت دونوں کو واضح کرتی ہیں جن کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، لوک ورثہ، صوبائی ثقافتی محکمے، تعلیمی ادارے، مقامی حکومتیں اور برادریاں اس کام میں مشترکہ کردار ادا کر سکتی ہیں۔

قومی حکمتِ عملی کے تحت مقامی تاریخ، لوک ادب اور روایتی علم کو تعلیمی نظام میں شامل کیا جائے اور طلبہ کو ثقافتی تنوع کے ساتھ تنقیدی سوچ، آئینی شعور اور انسانی وقار کی اہمیت بھی سمجھائی جائے۔ حساس اور متاثرہ اضلاع میں مقامی قیادت کے تحت ایسے پروگرام ترتیب دیے جائیں جو ہر علاقے کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ زبانی تاریخ، موسیقی، مقامی علم اور دستکاری کی تکنیکوں کو متعلقہ برادریوں کی رضامندی اور حقوق کا احترام کرتے ہوئے ڈیجیٹل ذخائر میں محفوظ کیا جائے۔ ہنرمندوں کو تربیت، گرانٹس، شاگردی اور منڈیوں تک منصفانہ رسائی دی جائے، جبکہ ڈیجیٹل مہمات کے ذریعے مستند ثقافتی مواد کو متعدد زبانوں میں عام کیا جائے۔وفاقی، صوبائی متعلقہ ادارے، تعلیمی مراکز، سول سوسائٹی اور ثقافتی تنظیمیں یہ جائزہ لے سکتی ہیں کہ مقامی سرگرمیاں امن کے وسیع تر پروگراموں میں کس طرح معاون ہیں۔ ان کے نتائج کو مفروضوں کے بجائے شواہد کی بنیاد پر جانچنا چاہیے: مختلف برادریوں کی شرکت، نوجوانوں کے احساسِ وابستگی، باہمی اعتماد، خواتین کے مواقع، تشدد کے بارے میں رویوں اور ثقافتی روزگار میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے۔ اس ذمہ داری میں خاندانوں، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، فن کاروں، صحافیوں، جامعات، مقامی حکومتوں، سول سوسائٹی اور ڈیجیٹل تخلیق کاروں سب کا حصہ ہے۔ والدین معدوم ہوتی کہانیوں اور گیتوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں؛ اساتذہ علاقائی ادب اور اس میں پوشیدہ دانش سے طلبہ کو روشناس کرا سکتے ہیں؛ صحافی کم نمائندگی پانے والی برادریوں کی ثقافتی خدمات کو اجاگر کر سکتے ہیں؛ فن کار تعصب کو چیلنج کرنے والا تخلیقی کام کر سکتے ہیں؛ اور مذہبی رہنما عقیدے اور تشدد کے جواز کے درمیان فرق واضح کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو محض سامع نہ سمجھا جائے بلکہ تحقیق کار، فن کار، دستاویز نگار اور جدت پیدا کرنے والے کردار دیے جائیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ثقافتی اداروں کی معاونت کرے، قانون کے دائرے میں آزادیِ اظہار کا تحفظ کرے، تعلیم میں سرمایہ کاری کرے اور شہریوں کو تشدد و امتیاز سے تحفظ فراہم کرے۔

امن صرف حملوں کی عدم موجودگی کا نام نہیں؛ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ لوگ خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں، اپنی شناخت کا اظہار تحقیر کے بغیر کریں، اجتماعی زندگی میں مساوی طور پر شریک ہوں اور اختلافات کو تشدد کے بجائے مکالمے سے حل کر سکیں۔ ثقافتی ورثہ ان حالات کی تشکیل میں تبھی مددگار بنتا ہے جب اسے ماضی کی بے جان یادگار کے بجائے لوگوں کے درمیان زندہ تعلق سمجھ کر اپنایا جائے۔ ہماری سب سے قیمتی میراث صرف عجائب گھروں کے ساز، کتب خانوں کے مخطوطات یا سرکاری تقریبات کے فنون نہیں؛ یہ روزمرہ کے ان رویوں میں بھی زندہ ہے جن کے ذریعے لوگ پڑوسیوں کا خیال رکھتے، اجنبیوں کا استقبال کرتے، کھانا بانٹتے، بزرگوں کا احترام کرتے اور اپنے بچوں تک علم و تجربہ پہنچاتے ہیں۔ یہ روایات بذاتِ خود منظم دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کر سکتیں؛ اس کے لیے مؤثر سکیورٹی ادارے، جواب دہ حکمرانی، انصاف، تعلیم، معاشی مواقع اور قانون کی حکمرانی ضروری ہیں۔ لیکن صرف سکیورٹی اقدامات وہ اعتماد، وابستگی اور مشترکہ مقصد پیدا نہیں کر سکتے جن پر پُرامن معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ اس کے لیے ثقافتی اور سماجی بنیادوں میں بھی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ ایک لوک گیت نفرت کی ہر آواز کو خاموش نہیں کر سکتا، مگر مشترکہ انسانیت کی یاد زندہ رکھ سکتا ہے؛ ایک ثقافتی اجتماع ہر تنازع ختم نہیں کرتا، مگر مکالمے کا دروازہ کھول سکتا ہے؛ اور بزرگ کی سنائی ہوئی کہانی ہر تشدد نہیں روک سکتی، مگر بچے کو یہ سکھا سکتی ہے کہ دوسرے انسان کو دشمن سمجھنے سے پہلے اس کی انسانیت پہچاننا ضروری ہے۔

ثقافتی تحفظ کی اصل کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ کتنی روایات ریکارڈ ہوئیں یا کتنے میلے منعقد کیے گئے، بلکہ اس سے کہ ان کوششوں نے ایسا معاشرہ بنانے میں کتنا حصہ ڈالا جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے، مذہبی عقیدہ ظلم کا جواز نہ ہو اور حب الوطنی کے لیے کسی دوسرے کی عزت چھیننا ضروری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان کا ثقافتی تنوع کوئی کمزوری نہیں جسے دبایا جائے؛ یہ مشترکہ ورثہ ہے جسے محفوظ کرکے مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ ہماری زبانیں تقسیم کے بجائے رشتے جوڑیں، ہماری شاعری انسان دوستی کو فروغ دے، ہمارے میلوں میں اعتماد بحال ہو، ہمارے ہنرمند باوقار روزگار حاصل کریں اور ہماری کہانیاں نئی نسلوں کو سکھائیں کہ اصل طاقت نفرت میں نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود مل جل کر پُرامن زندگی گزارنے کے حوصلے میں ہے۔ عالمی یومِ غیر مادی ثقافتی ورثہ پر پاکستان کے لیے پیغام واضح ہے کہ اپنی زندہ روایات محفوظ بنائیں، مشترکہ انسانیت کو مضبوط کریں اور ثقافت کو امن کی مستقل قوت میں تبدیل کریں۔