بلوچستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں خواتین کا استحصال

بلوچستان کی سرزمین جہاں قدرتی وسائل، تاریخی ورثہ اور ثقافتی تنوع کی امین ہے، وہیں کئی دہائیوں سے دہشت گردی اور شدت پسندی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا بھی کر رہی ہے۔ اس صورتحال کا ایک نہایت تشویشناک پہلو خواتین کا استحصال ہے، جسے دہشت گرد گروہ اپنی حکمت عملی کا حصہ بنا چکے ہیں۔ وہ نہ صرف خواتین کو جذباتی، سماجی اور معاشی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اپنے جال میں پھنساتے ہیں بلکہ انہیں تخریبی سرگرمیوں کے لیے استعمال بھی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، وہ خواتین سیکورٹی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنا کر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں ایک مضبوط اور حقیقت پر مبنی مقابل سوچ  نہایت ضروری ہے جو نہ صرف ان عناصر کے عزائم کو بے نقاب کرے بلکہ معاشرے کو ایک مثبت سمت بھی فراہم کرے۔

دہشت گرد تنظیمیں اپنی کارروائیوں کو جواز دینے کے لیے ایک من گھڑت بیانیہ تشکیل دیتی ہیں جس میں وہ خود کو مظلوم اور ریاست کو ظالم ظاہر کرتے ہیں۔ وہ نوجوانوں، خصوصاً خواتین کو”  آزادی “یا ” مقدس مقصد“کے نام پر گمراہ کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے اقدامات کا سب سے زیادہ نقصان مقامی آبادی، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ خواتین کو سوشل میڈیا، ذاتی روابط اور بعض اوقات خاندانی دباؤ کے ذریعے اس راستے پر ڈالا جاتا ہے، جہاں وہ نہ صرف اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ معاشرتی امن کے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہیں۔ یہ تمام حربے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گردی اب صرف ہتھیاروں کی جنگ نہیں رہی بلکہ ذہنوں کو کنٹرول کرنے کی ایک پیچیدہ اور خطرناک کوشش بن چکی ہے۔ اس حوالے سیے انکی ہر طرح کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں ان کے عزیزوں سے دور کرتے ہوئے انہی کی قوم اور وطن کے خلاف کودکش بمبار بنایا اور ہر طرح کی منفی کاروائی کروائی۔ ان  میں شاری بلوچ،  سمعیہ بلوچ، محل بلوچ، آصفہ مینگل، حوا بلوچ،زیرنہ رفیق، دروشم، یسماء بلوچ، نور جہاں بلوچ، عدیلہ بلوچ اور دیگر شامل ہیں۔ جنہیں بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ جیسے مکروہ چہرہ دہشت گردوں نے گھناونے واقعات میں دھکیلا اور  معصوم لوگوں کی جان لینے کے لیے استعمال کر کے خواتین کے امن کے چہرہ کو بدنما کرنے کے جرائم کا ارتکاب کیا۔ ان  امور کوسرانجام دینے سے ملک و قوم کے لیے کوئی نیک نامی نہیں حاصل کی گئی بلکہ نہایت ہزیمت کا سامان کرنا پڑا۔  جس ملک اور قوم  کے لا تعداد احسانات ہوں کیا ان کے ساتھ یہ کیا جاتا ہے؟  یہ لوگ کسی سے بھی مخلص نہیں بلکہ علاقے کے مستقبل کو بھی داغدار کرنے پہ مصر ہیں۔ 

اس کے برعکس، ریاستی اداروں میں خدمات انجام دینے والی خواتین ناز ملک جیسی ایک مثبت اور مضبوط مثال ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی صف اول کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان پر ہونے والے حملے دراصل اس خوف کا اظہار ہیں جو دہشت گرد عناصر ریاستی قوت اور خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار سے محسوس کرتے ہیں۔ ایسے واقعات کا مقصد معاشرے میں خوف پھیلانا اور خواتین کو عملی میدان سے پیچھے ہٹانا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ قربانیاں قوم کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ اسی لیے یہ بدکردار بزدل اور خواتین کے دشمن وطن کی حفاظت پہ معمور خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ جو انکی خود ساختہ بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

 بلوچستان کی خواتین  صلاحیتوں میں کسی سے بھی کم نہیں  انہوں پوری دنیا میں اپنی ذہانت ، معاشرے کی بہتری کے لیے فعال کردار ماضی میں بھی نبھایا اور اب ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ زندگی کا کوئی شعبہ  نہیں جس میں بلوچستان کی خواتین موجود نہ ہوں خواہ سیاست ہو، تعلیم و تدریس ہو، طب و سائنس ہو، ٹیکنالوجی ہو، محافظین وطن کی صف ہو، عدلیہ ہو، رفاہی امور ر ہوں، کھیل ہوں،  انتظامیہ ہو،   سب جگہ اپنے ملک اور قوم کی نہ صرف نمائندگی کی بلکہ نام روشن کیا۔ خواتین نہ صرف اپنے خاندانوں میں مثبت سوچ کو فروغ دے سکتی ہیں بلکہ معاشرے میں امن، برداشت اور شعور کی علامت بھی بن سکتی ہیں۔ تعلیم، آگاہی اور معاشی خودمختاری کے ذریعے وہ نہ صرف خود کو محفوظ بنا سکتی ہیں بلکہ دوسروں کو بھی شدت پسندی کے خطرات سے آگاہ کر سکتی ہیں۔ بلوچستان کی خواتین میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں مواقع، تحفظ اور اعتماد فراہم کیا جائے۔

تمام شراکت داروں  کی یہ اجتماعی ذمہ داری  بنتی ہے کہ وہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے ساتھ ساتھ خواتین کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے۔ اس کے لیے جدید وسائل اور تربیت فراہم کرنا، سوشل میڈیا پر شدت پسند مواد کی نگرانی کرنا، اور متاثرہ خواتین کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، تعلیمی اداروں کو طلبہ میں تنقیدی سوچ، برداشت اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ وہ کسی بھی قسم کے گمراہ کن بیانیے کا شکار نہ ہوں۔

 اس حوالے سے میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ذمہ دارانہ رپورٹنگ، مثبت کہانیوں کا فروغ اور دہشت گردی کے خلاف شعور بیدار کرنا میڈیا کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر میڈیا سنسنی خیزی سے گریز کرے اور حقائق پر مبنی معلومات فراہم کرے تو معاشرہ زیادہ باشعور اور مضبوط بن سکتا ہے۔ اسی طرح مذہبی اور سماجی رہنماؤں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو مثبت سمت میں استعمال کریں، اسلام کی حقیقی تعلیمات کو اجاگر کریں اور تشدد و انتہا پسندی کی کھل کر مذمت کریں۔ آخرکار، بلوچستان میں دہشت گردی اور خواتین کے استحصال کے خلاف جنگ صرف ریاست کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایک مؤثر مقابلہ وہی ہوتا ہے جو سچائی، شعور اور اتحاد پر مبنی ہو۔ جب معاشرہ اجتماعی طور پر شدت پسندی کو مسترد کر دے اور خواتین کو عزت، تحفظ اور مواقع فراہم کرے تو دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔ یہی وہ راستہ ہے جو بلوچستان کو امن، استحکام اور ترقی کی جانب لے جا سکتا ہے، اور یہی وہ عزم ہے جو ایک مضبوط اور باوقار قوم کی پہچان بنتا ہے۔