خانۂ خدا کے تقدس کی پامالی در حقیقت اسلام سے دشمنی کوہاٹ میں ربِ کریم کے گھر میں اس کے چاہنے والے سجدہ ریز تھے کہ اسلام کا نام استعمال کرنے والے دہشت گرد عناصر نے ناحق خون بہانے کا مکروہ فعل انجام دیا۔ مسجد دنیا کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے؛ یہ […]
کوہاٹ میں ربِ کریم کے گھر میں اس کے چاہنے والے سجدہ ریز تھے کہ اسلام کا نام استعمال کرنے والے دہشت گرد عناصر نے ناحق خون بہانے کا مکروہ فعل انجام دیا۔ مسجد دنیا کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے؛ یہ وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنے رب کے حضور جھکتا، اپنی امیدیں وابستہ کرتا اور روحانی سکون حاصل کرتا ہے۔ ایسے مقام کو اس کے عبادت گزاروں سمیت نشانہ بنانا نہ صرف انسانی اقدار بلکہ اسلامی تعلیمات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جن لوگوں نے اصلاح اور دین کے نام پر خانۂ خدا کو خون میں نہلایا، انہوں نے دراصل اسی دین کے بنیادی اصولوں کی نفی کی جس کا نام وہ اپنے جرائم کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
کسی کے گھر پر حملہ کرکے یہ سمجھنا کہ اس کے نتائج سے محفوظ رہا جاسکتا ہے، عقل و شعور سے عاری سوچ کی علامت ہے۔ اللہ کے گھر کی حرمت پامال کرنا ایک ایسا جرم ہے جس کی سنگینی محض انسانی قانون تک محدود نہیں رہتی۔ اسلام نے انسانی جان، عبادت گاہ اور مذہبی آزادی کی حرمت کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ جو لوگ معصوم نمازیوں کو نشانہ بناتے ہیں، وہ اپنے اعمال سے ثابت کرتے ہیں کہ ان کا تعلق اصلاح، امن اور حقیقی دینی تعلیمات سے نہیں بلکہ تشدد، نفرت اور فساد سے ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں باشعور انسان دہشت گردی کے اس رویے کو مسترد کرتے ہیں اور ایسے عناصر کے عزائم کو پہچان چکے ہیں۔ ان عناصر کی مساجد اور دیگر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں سینکڑوں مساجد، امام بارگاہیں، مزارات، خانقاہیں، مدارس اور دیگر مذہبی مقامات دہشت گردی کی زد میں آتے رہے ہیں۔ ان حملوں میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ علماء، مذہبی رہنما، طلبہ اور عبادت گزار بھی متاثر ہوئے۔ یہ واقعات اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی حقیقی مذہب نہیں ہوتا اور تشدد کو مذہبی رنگ دینا دراصل مذہب کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ دہشت گرد عناصر نے ان علماء اور مذہبی شخصیات کو بھی نشانہ بنایا جنہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں انتہاپسندانہ نظریات کی تردید کی اور اسلام کے حقیقی تشخص کو دنیا کے سامنے واضح کیا۔ ان کی مساجد، مدارس اور خانقاہوں میں حملے کیے گئے، کیونکہ وہ مذہب کے نام پر تشدد کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ جو لوگ عبادت گاہوں کو خونریزی کا میدان بناتے، علماء کو خاموش کرنے کی کوشش کرتے اور بے گناہ انسانوں کو نشانہ بناتے ہیں، وہ آخر کس اسلام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں؟
اسلام ایک ایسا دین ہے جو عدل، رحمت، امن، انسانی حرمت اور معاشرتی ذمہ داری کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لیے مذہب کے مقدس نام کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کرنا اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اس کی بنیادی تعلیمات سے انحراف ہے۔ جو لوگ اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے مذہبی جذبات کو استعمال کرتے ہیں، ان کے دعووں کو ان کے الفاظ سے نہیں بلکہ ان کے اعمال سے پرکھنا چاہیے۔ اگر ان کے اعمال میں بے گناہوں کا قتل، عبادت گاہوں کی پامالی، خوف و ہراس اور معاشرتی تقسیم شامل ہو تو ان کے مذہبی دعوے خود اپنی تردید کرتے ہیں۔ عبادت گاہوں کا تحفظ صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی اور قومی سلامتی کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر لوگ اپنے مقدس مقامات میں خود کو محفوظ محسوس نہ کریں تو معاشرے کا بنیادی احساسِ تحفظ متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے ریاستی اداروں، مذہبی قیادت، سول سوسائٹی، میڈیا اور عام شہریوں کو اپنے اپنے دائرۂ کار میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ سکیورٹی کے مؤثر انتظامات، مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت اطلاع، ذمہ دارانہ ابلاغ اور مذہبی رواداری کے فروغ کے ذریعے ایسے خطرات کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل اور مشکل جدوجہد کی ہے۔ اس جدوجہد میں شہریوں، علماء، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور ریاستی اداروں نے بھاری قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کمزور نہ پڑے۔ تاہم اس جدوجہد کی بنیاد قانون، انصاف اور ریاستی اختیار پر ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کسی فرد، برادری یا مذہب کے خلاف اجتماعی ردعمل کے ذریعے نہیں بلکہ ان عناصر کے خلاف مؤثر قانونی اور ریاستی کارروائی کے ذریعے کیا جانا چاہیے جو تشدد میں ملوث ہیں یا اسے فروغ دیتے ہیں۔ قرآن و سنت کی تعلیمات، انسانی حقوق کے اصول اور پاکستان کا آئینی نظام شہریوں کے جان و مال، مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔ چنانچہ مقدس مقامات پر حملوں کا سدباب ریاستی ذمہ داری بھی ہے اور اجتماعی ضرورت بھی۔ اس مقصد کے لیے قانون کی بالادستی، مؤثر انسدادِ دہشت گردی اقدامات، انٹیلی جنس تعاون، مذہبی قیادت کی شمولیت اور معاشرے میں برداشت کے فروغ کو یکجا کرنا ضروری ہے۔
دہشت گردی کا ایک خطرناک پہلو اس کا فکری اور ابلاغی محاذ بھی ہے۔ انتہاپسند عناصر صرف جسمانی حملوں کے ذریعے نہیں بلکہ پروپیگنڈے، نفرت انگیز مواد اور گمراہ کن بیانیوں کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں، میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے جہاں نوجوانوں کو علم، دلیل، تحقیق اور مثبت قومی اقدار کے ذریعے انتہاپسندی کے مقابلے کی صلاحیت حاصل ہو۔ مذہبی تعلیم کو امن، برداشت، انسانی احترام اور قانون کی پاسداری کے پیغام کے ساتھ مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مساجد کی صفوں کو خون سے رنگنے والے عناصر یہ حقیقت فراموش نہ کریں کہ تشدد معاشروں کو تباہ کرتا ہے، انہیں مضبوط نہیں بناتا۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ اس سوچ کو شکست دے کر بھی کیا جاتا ہے جو انسان کو انسان کے خلاف کھڑا کرتی ہے۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں اور عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنائیں، جبکہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ نفرت، فرقہ واریت اور انتہاپسندانہ پروپیگنڈے کو قبول نہ کرے۔ کسی بھی دہشت گرد کارروائی کا جواب قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر، منظم اور ذمہ دارانہ انداز میں دینا ہی دیرپا امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی نے معاشرتی زندگی، مذہبی ہم آہنگی اور قومی استحکام کو متاثر کیا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر یکجہتی اور مسلسل ادارہ جاتی کوشش کی ضرورت ہے۔ مذہبی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنا، نوجوانوں کو انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ رکھنا، علماء اور مذہبی رہنماؤں کو امن کے فروغ میں شریک کرنا اور شہریوں میں قانون کی پاسداری کا شعور پیدا کرنا اس جدوجہد کے اہم اجزا ہیں۔ قومی سلامتی صرف سرحدوں کے تحفظ سے نہیں بلکہ شہریوں کے اعتماد اور معاشرتی امن سے بھی وابستہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انتہاپسندی نے جہاں بھی جگہ بنائی، وہاں سب سے پہلے انسان کی حرمت اور معاشرتی اعتماد کو نقصان پہنچا۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد محض ایک وقتی ردعمل نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ایک مسلسل قومی عزم کی شکل اختیار کرنا ہوگی۔ مسجد کے تقدس کا تحفظ دراصل انسان کے حقِ عبادت، حقِ زندگی اور حقِ امن کا تحفظ ہے۔ جو عناصر ان حقوق کو پامال کرتے ہیں، ان کے خلاف ریاستی اداروں کو قانون کے مطابق مؤثر کارروائی کرنی چاہیے اور معاشرے کو ان کے فکری اثرات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ مقدس مقامات کو نفرت اور تشدد کے مراکز بننے نہیں دیا جائے گا۔ مسجد کی صف میں کھڑا انسان کسی تنازع کا فریق نہیں بلکہ امن اور عبادت کا طلب گار ہے۔ اس کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح علماء، اساتذہ، والدین، میڈیا اور نوجوانوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مذہب کے نام پر پھیلائی جانے والی گمراہی کو علم اور دلیل سے شکست دی جاسکے۔ اگر ہم عبادت گاہوں کو محفوظ، مذہبی اختلافات کو پُرامن، نوجوانوں کو باشعور اور قانون کی بالادستی کو مضبوط بنا دیں تو دہشت گردی کے اس بیانیے کو کمزور کیا جاسکتا ہے جو معاشرے کو خوف اور تقسیم کی طرف لے جاتا ہے۔ خانۂ خدا کی حرمت کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ اس کی عمارت محفوظ رہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے اندر عبادت کرنے والا ہر شخص خود کو محفوظ محسوس کرے۔ مسجد کا اصل پیغام خوف نہیں، اطمینان؛ نفرت نہیں، رحمت؛ تقسیم نہیں، اخوت؛ اور تشدد نہیں، امن ہے۔ جو لوگ اس پیغام کو مسخ کرکے انسانوں کے خلاف تشدد کو مذہب کا نام دیتے ہیں، ان کے بیانیے کا مقابلہ دلیل، علم، قانون اور اجتماعی شعور سے کرنا ہوگا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں، اس لیے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قربانیوں کو ایک ایسے مستقبل کی بنیاد بنایا جائے جہاں عبادت گاہیں محفوظ ہوں، علماء بلا خوف اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، نوجوان نفرت انگیز پروپیگنڈے سے محفوظ رہیں اور ہر شہری کو اپنے عقیدے اور مذہبی شناخت کے ساتھ پُرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔ یہی ایک مضبوط، متحد اور پُرامن پاکستان کی بنیاد ہے۔
مساجد اور دیگر مقدس مقامات پر ہونے والے حملے ہمیں بار بار یہ سبق دیتے ہیں کہ امن محض خاموشی کا نام نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کا آغاز انسانی جان کی حرمت سے ہوتا ہے اور قانون کی بالادستی، مذہبی رواداری، فکری اعتدال اور سماجی انصاف تک پھیلتا ہے۔ کسی عبادت گاہ پر حملہ دراصل پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے، کیونکہ عبادت گاہ ہر اس شخص کے لیے امید کی علامت ہوتی ہے جو اپنے رب کے سامنے سکون تلاش کرتا ہے۔ ایسے سانحات کے بعد ہمارا ردعمل صرف مذمت تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ ہمیں ان عوامل کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا جو نفرت اور انتہاپسندی کو جنم دیتے ہیں۔ خاندانوں کو اپنے بچوں کے سوالات سننے، تعلیمی اداروں کو تنقیدی اور مثبت سوچ پیدا کرنے، علماء کو مذہبی تعلیمات کے امن پسند پہلو اجاگر کرنے اور میڈیا کو ذمہ دارانہ ابلاغ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کو مؤثر قانون نافذ کرنے، خطرات کی بروقت نشاندہی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط بنانا ہوگی۔ اسی طرح معاشرے کو فرقہ وارانہ تعصبات، نفرت انگیز زبان اور دہشت گرد پروپیگنڈے کو مسترد کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی ایک عبادت گاہ کی حفاظت پورے معاشرے کے امن سے جڑی ہے۔ جب مسجد محفوظ ہوگی تو اس کے ساتھ شہری کا اعتماد بھی محفوظ ہوگا؛ جب علماء بے خوف بات کرسکیں گے تو اعتدال کی آواز مضبوط ہوگی؛ اور جب نوجوان علم و دلیل کو تشدد پر ترجیح دیں گے تو انتہاپسندی کے لیے جگہ محدود ہوگی۔ خانۂ خدا کا تقدس دراصل انسان کے تقدس سے جدا نہیں۔ اس لیے ہماری اجتماعی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ پاکستان کی ہر مسجد، امام بارگاہ، مدرسہ، مزار اور دوسری عبادت گاہ امن، احترام اور رواداری کی علامت بنے۔ یہی راستہ ان قربانیوں کو حقیقی معنویت دے سکتا ہے جو اس ملک نے دہشت گردی کے خلاف دی ہیں، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک ایسا پاکستان تعمیر کیا جاسکتا ہے جہاں مذہب لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہو، نفرت کا نہیں؛ جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے؛ اور جہاں ہر شہری اپنے رب کے حضور سر جھکاتے ہوئے خود کو محفوظ اور مطمئن محسوس کرے۔
© 2026 PPN - پرامن پاکستان نیٹ ورک