ریاستیں جنگ جیتتی ہیں پاکستان نے تاریخ جیتی

پاکستان کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف تاریخ نہیں، بلکہ قوم کی غیرت، عزم اور عزت کی علامت بن جاتے ہیں۔ آج وہ دن ہے جب پاکستان نے بھارت کے غرور، اس کی جارحیت اور اس کے جنگی جنون کا ایسا جواب دیا کہ دنیا ابھی بھی حیران اور احترام کرتی ہے۔ اعتراف کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بھارت کے مسلط کردہ آپریشن سندور کو ایک سال بیت چکا ہے، مگر اس کی گونج آج بھی نئی دہلی کے ایوانوں میں خوف، بے بسی اور شکست کی داستان سناتی ہے، جبکہ پاکستان کے گلی کوچوں میں یہ دن فتح، حوصلے اور قومی وحدت کی علامت بن چکا ہے۔

یہ محض  فوجی کامیابی نہیں تھی بلکہ یہ ایک نظریے کی فتح تھی۔ یہ اس قوم کی جیت تھی جس کے بارے میں دشمن یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ شاید دباؤ، دھمکیوں اور جارحیت سے اسے جھکایا جا سکتا ہے۔ لیکن بھارت یہ بھول گیا تھا کہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں ماؤں نے اپنے بیٹوں کو وطن پر قربان ہونے کے لیے پالا ہے، جہاں جوان اپنی جان سے زیادہ وطن کی عزت کو عزیز رکھتے ہیں، اور جہاں قوم ہر مشکل گھڑی میں سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔ بھارت نے آپریشن سندورکے ذریعے پاکستان کو خوفزدہ کرنے، اس کے حوصلے پست کرنے اور جنوبی ایشیا میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس کی عسکری طاقت، اس کا شور شرابہ، اس کا میڈیا پروپیگنڈا اور اس کے جنگی دعوے پاکستان کو دفاعی پوزیشن پر لے آئیں گے۔ مگر تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایمان، جذبے اور سچائی سے جیتی جاتی ہیں۔

جب دشمن نے رات کی تاریکی میں اپنی جارحیت مسلط کی تو پاکستان نے خاموشی اختیار نہیں کی۔ قوم کے محافظ جاگ رہے تھے۔ فضاؤں میں شاہین گرج رہے تھے۔ سرحدوں پر کھڑے جوان دشمن کی ہر چال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ پھر وہ لمحہ آیا جب پاکستان نے ایسا جواب دیا جس نے بھارت کے تمام تر غرور کو خاک میں ملا دیا۔ دشمن کے مورچے لرز اٹھے، اس کے دعوے زمین بوس ہوگئے اور اس کے جنگی منصوبے راکھ کا ڈھیر بن گئے  رافیل کے ساتھ ساتھ را کو بھی فیل کر دیا۔دنیا اس معرکہ حق آپریشن بنیان المرصوص حیران تھی کہ ایک طرف اربوں ڈالر کے ہتھیاروں سے لیس بھارت تھا اور دوسری طرف ایک ایسا پاکستان جو معاشی مشکلات کے باوجود اپنے دفاع پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔اسی طرح  دنیا نے دیکھا کہ جب قوموں کے دل مضبوط ہوں تو وسائل کی کمی ان کے راستے نہیں روک سکتی۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ طاقت صرف تعداد کا نام نہیں بلکہ عزم، حکمت اور ایمان کا نام ہے۔ یہ جنگ بھارت کو گہرے خوف میں مبتلاکر گئی جس نے بھارت کے جھوٹے بیانیے کو ختم کر دیا جو بھارت دنیا کو گمراہ کرتا تھا۔ بھارت ہمیشہ خود کو خطے کا پرامن ملک دکھاتا رہا لیکن آپریشن سندور نے بھارت کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنےبے نقاب کر دیا۔ عالمی میڈیا، دفاعی ماہرین اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان نے نہ صرف اپنی سرزمین کا کامیاب دفاع کیا بلکہ عسکری حکمت عملی، صبر اور پیشہ ورانہ مہارت کی نئی مثال قائم کی۔

اس دن پاکستانی قوم نے دنیا کو دکھایا کہ اختلافات اپنی جگہ ہیں، لیکن جب وطن کی بات آتی ہے تو پاکستانی قوم ایک جسم، ایک جان بن جاتی ہے۔ مسجدوں میں لوگ دعائیں مانگتے تھے، گھروں میں لوگ قرآن کی تلاوت کرتے تھے، مائیں اپنے بیٹوں کے لیے دعا کر رہی تھیں، بچے فوجیوں کے حق میں نعرے لگا رہے تھے، اور سوشل میڈیا سے لے کر گلی محلوں تک صرف ایک آواز گونج رہی تھی: پاکستان زندہ باد! بھارت شاید یہ سمجھتا تھا کہ وہ میڈیا وار کے ذریعے پاکستان کے حوصلے توڑ دے گا، مگر اس نے دیکھا کہ پاکستانی نوجوانوں نے قلم، کیمرے اور الفاظ کے ذریعے بھی دشمن کو شکست دی۔ سچائی کی طاقت نے جھوٹے پروپیگنڈے کو روند ڈالا۔ دنیا نے محسوس کیا کہ پاکستان صرف میدان جنگ میں ہی نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ میں بھی ایک مضبوط قوم ہے۔

اس تاریخی کامیابی نے 1965ء کی جنگ کی یاد تازہ کر دی، جب دشمن لاہور کے خواب دیکھتا ہوا آیا تھا مگر اپنے زخم چاٹتا واپس گیا۔ یہ 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کی جرات کی بھی یاد دلاتی ہے، جب پاکستان نے دنیا کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی خودمختاری کا دفاع کیا تھا۔ اور پھر آپریشن سندورکے جواب نے ثابت کیا کہ پاکستان آج بھی اسی جذبے، اسی غیرت اور اسی عزم کے ساتھ زندہ ہے۔ یہ ایک سال صرف فتح کی یاد کا نہیں بلکہ احتساب کا بھی سال ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ قومیں صرف جنگیں جیت کر عظیم نہیں بنتیں بلکہ اتحاد، تعلیم، معیشت اور قومی کردار سے ترقی کرتی ہیں۔ دشمن ہمیشہ کوشش کرے گا کہ پاکستان کو اندرونی اختلافات، نفرتوں اور کمزوریوں میں الجھا دےمگر آپریشن سندورکی فتح ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب ہم متحد ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔

ہمیں اپنے شہداء کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے وہ جوان جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں، وہ ہمیشہ قوم کے ماتھے کا جھومر رہیں گے۔ ان کے خون سے لکھی گئی یہ فتح ہمیشہ آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتی رہے گی کہ پاکستان قربانیوں سے حاصل ہوا تھا اور قربانیوں سے ہی محفوظ رہے گا۔ آج جب اس تاریخی کامیابی کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے تو ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہے۔ دشمن کا غرور خاک میں مل چکا، اس کی دھمکیاں دم توڑ چکی ہیں اور اس کے خواب بکھر چکے ہیں۔ پاکستان آج بھی مضبوط ہے، متحد ہے اور ناقابلِ تسخیر ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے۔ ایک ایسا نظریہ جسے نہ توپوں سے دبایا جا سکتا ہے، نہ میزائلوں سے جھکایا جا سکتا ہے، اور نہ سازشوں سے ختم کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ وہ سرزمین ہے جس کے محافظوں کے دلوں میں ایمان کی طاقت ہے، اور جس کی قوم کے سینوں میں آزادی کی آگ روشن ہے۔

آج پوری قوم اپنے شہداء، غازیوں اور افواجِ پاکستان کو سلام پیش کرتی ہے۔ سلام ان شاہینوں کو جنہوں نے دشمن کو اس کی اوقات یاد دلائی۔ سلام ان ماؤں کو جنہوں نے اپنے بیٹوں کو وطن پر قربان ہونے کے لیے تیار کیا۔ سلام اس قوم کو جس نے ہر مشکل گھڑی میں ثابت کیا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہے گا۔ وقت گزر جائے گا، نسلیں بدل جائیں گی، مگر آپریشن سندور میں دشمن کو دی گئی تاریخی شکست ہمیشہ تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔ آنے والی نسلیں جب اس دن کو یاد کریں گی تو فخر سے کہیں گی کہ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے دنیا کو دکھایا کہ غیرت مند قومیں کبھی جھکتی نہیں، کبھی بکتی نہیں، اور کبھی شکست تسلیم نہیں کرتیں۔اس معرکے نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہر طرح کے دشمن کو یہ باور کروا دیا ہے کہ پاکستان کی جانب اٹھنے والی میلی نگاہ اٹھنے سے پہلے ہی  ہمت نہ ہونے کی وجہ سے ختم ہو جائے گی۔

پاکستان زندہ باد۔         افواجِ پاکستان پائندہ باد۔