قوم بلوچستان کے ساتھ کھڑی ہے: دہشت گردوں کے نام ایک واضح پیغام

دنیا میں کچھ خطے صرف نقشوں پر موجود ہوتے ہیں، مگر کچھ زمینیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو قوموں کے دلوں میں بستی ہیں۔ بلوچستان ایسی ہی ایک سرزمین ہے۔ اپنے وسیع رقبے، بے مثال قدرتی حسن، عظیم تاریخ اور لازوال قربانیوں کے باعث بلوچستان پاکستان کی صرف ایک اکائی نہیں بلکہ اس کی طاقت، وقار اور مستقبل کی علامت ہے۔ چاغی کے سنگلاخ پہاڑوں سے گوادر کے روشن ساحلوں تک، صحراؤں کی خاموش وسعتوں سے بہادر قبائل کی وادیوں تک، بلوچستان پاکستان کی روح میں رچا بسا ہے۔

مگر افسوس کہ اس عظیم سرزمین کو برسوں سے دہشت گردی، انتہاپسندی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہے۔ معصوم شہری، مزدور، اساتذہ، طلبہ، سیکورٹی اہلکار اور مسافر ان عناصر کا نشانہ بنتے رہے ہیں جو امن کے بجائے خوف، ترقی کے بجائے تباہی اور اتحاد کے بجائے انتشار چاہتے ہیں۔ دہشت گرد کوشش کرتے ہیں کہ بلوچستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا جائے، مگر وہ ہمیشہ ایک حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں: بلوچستان کے عوام اور پاکستان کے درمیان رشتہ صرف جغرافیے کا نہیں بلکہ محبت، قربانی اور مشترکہ تقدیر کا رشتہ ہے۔آج پورے ملک کی ایک ہی آواز ہے:قوم بلوچستان کے ساتھ کھڑی ہے۔یہ صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ اعلان ہے کہ بلوچستان میں بہنے والا ہر بے گناہ خون پورے پاکستان کا خون ہے۔ یہ پیغام ہے کہ دہشت گرد اور ان کے سرپرست کبھی بھی بلوچستان کو پاکستان کے دل سے جدا نہیں کر سکتے۔

دہشت گردی وہاں پنپتی ہے جہاں خوف غالب آ جائے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ متحد قوموں کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان دشمن عناصر جانتے ہیں کہ بلوچستان بے پناہ قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور اقتصادی امکانات کا حامل خطہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک پُرامن بلوچستان ترقی، خوشحالی اور علاقائی استحکام کی علامت بن سکتا ہے۔ اسی لیے وہ خوفزدہ ہیں۔ وہ ترقی سے ڈرتے ہیں کیونکہ ترقی دہشت گردی کی سیاست کو شکست دیتی ہے۔ وہ اتحاد سے خوف کھاتے ہیں کیونکہ قومی یکجہتی ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیتی ہے۔لیکن یہ حقیقت پوری قوت سے دنیا کو سن لینی چاہیے کہ بلوچستان کی شناخت دہشت گرد نہیں، بلکہ وہ محنت کش ماہی گیر ہیں جو گوادر کے ساحلوں پر رزق کماتے ہیں، وہ کسان ہیں جو سخت حالات میں بھی زمین سے وفاداری نبھاتے ہیں، وہ طلبہ ہیں جو بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، وہ اساتذہ ہیں جو نئی نسل کو علم کی روشنی دے رہے ہیں، اور وہ جوان ہیں جو وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔بلوچستان کی اصل پہچان بہادری، مہمان نوازی، عزت، روایات اور حب الوطنی ہے۔جو عناصر بے گناہ مسافروں، مزدوروں اور شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، وہ بلوچ عوام کے نمائندے نہیں ہو سکتے۔ دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے، نہ قومیت اور نہ ہی انسانیت۔ معصوم انسانوں کا قتل کبھی سیاسی جدوجہد نہیں کہلا سکتا، اور نہ ہی ظلم و بربریت کو آزادی کی تحریک کا نام دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں نے اپنے خون سے امن کی شمع روشن کی۔ بلوچستان نے بھی اس جنگ میں شدید دکھ اور آزمائشیں برداشت کیں، مگر ہر زخم کے باوجود اس کے عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ دشمنوں نے مایوسی پھیلانا چاہی، مگر انہیں عزم ملا۔ انہوں نے تقسیم کی کوشش کی، مگر قوم کو پہلے سے زیادہ متحد پایا۔ بلوچستان کا مستقبل بندوق اور بارود میں نہیں بلکہ تعلیم، ترقی، انصاف، مکالمے اور شمولیت میں پوشیدہ ہے۔ ہر نیا اسکول انتہاپسندی کے خلاف ایک فتح ہے۔ ہر نئی سڑک دوریوں کو ختم کرتی ہے۔ ہر اسکالرشپ نوجوانوں کو امید دیتی ہے۔ ہر اسپتال، صنعت اور ترقیاتی منصوبہ دہشت گردی کے نظریے کو کمزور کرتا ہے۔ اسی لیے دہشت گرد ترقیاتی منصوبوں، مزدوروں اور قومی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ تعلیم یافتہ اور بااختیار عوام کو گمراہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ ایک ایسے بلوچستان سے خوفزدہ ہیں جو ترقی، تجارت اور قومی استحکام کی علامت بن جائے۔پاکستان کے عوام کو چاہیے کہ وہ ہر اس کوشش کو مسترد کریں جو صوبوں اور قومیتوں کے درمیان نفرت پیدا کرنا چاہتی ہے۔ بلوچستان کا دکھ پورے پاکستان کا دکھ ہے۔ اس کی خوشحالی پورے پاکستان کی خوشحالی ہے۔ کراچی سے گلگت تک، لاہور سے کوئٹہ تک، پشاور سے گوادر تک ہر پاکستانی کا دل بلوچستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ دانشوروں، صحافیوں، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کریں۔ پروپیگنڈا ہمیشہ خاموشی میں پنپتا ہے، جبکہ سچائی اور شعور دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کے عوام کے جائز مسائل کو سنجیدگی سے سنا جائے۔ ترقی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک عوام خود کو اس کا حصہ محسوس نہ کریں۔مگر ایک حقیقت ہمیشہ واضح رہنی چاہیے: سیاسی اختلاف رائے اور جمہوری جدوجہد ہر شہری کا حق ہے، لیکن دہشت گردی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ بے گناہوں کا قتل کسی بھی نظریے یا مقصد کے تحت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بی ایل اے، بی ایل ایف  اور دیگردہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے قوم کا پیغام بالکل واضح ہےکہ پاکستان خوف کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا نہ بلوچستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ریاست، عوام اور ادارے امن کے دشمنوں کے خلاف متحد ہیں۔ پاکستان کی تاریخ صرف الفاظ سے نہیں بلکہ قربانیوں سے لکھی گئی ہے۔ اس قوم نے جنگوں، سازشوں، قدرتی آفات اور دہشت گردی کا سامنا کیا، مگر ہر بار پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھری۔ بلوچستان نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی وفاداری ثابت کی ہے، اور آج پورا پاکستان بلوچستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔ بلوچستان کے نوجوان اس جدوجہد کا سب سے اہم سرمایہ ہیں۔ وہ ذہین، باصلاحیت اور پرعزم ہیں۔ انہیں بندوق نہیں بلکہ کتاب چاہیے، خوف نہیں بلکہ امید چاہیے، نفرت نہیں بلکہ مواقع چاہیے۔ تعلیم، کھیل، ٹیکنالوجی اور کاروباری مواقع نوجوانوں کو روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ بلوچستان کی ثقافت بھی اس کی عظمت کا ایک روشن باب ہے۔ اس کی شاعری، موسیقی، روایات اور زبانیں صدیوں کی تہذیب اور وقار کی عکاس ہیں۔ دہشت گردی ثقافت کو خوف سے بدلنے کی کوشش کرتی ہے، مگر ایک باشعور قوم اپنی تہذیب کو کبھی مٹنے نہیں دیتی۔

دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بلوچستان میں دہشت گردی محض مقامی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بیرونی مفادات اور پراکسی ایجنڈے بھی کارفرما رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان صبر، استقامت اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ بلوچستان میں امن نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔گوادر خاص طور پر امید اور ترقی کی علامت ہے۔ یہ شہر تجارت، رابطوں اور اقتصادی امکانات کا دروازہ بن سکتا ہے۔ دشمن قوتیں اسی ترقی سے خوفزدہ ہیں، اسی لیے وہ تخریب کاری کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ترقی کا سفر کبھی بارود سے نہیں رکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتی بلکہ تعلیمی اداروں، گھروں، میڈیا اور قومی سوچ میں بھی لڑی جاتی ہے۔ یہ جنگ امید اور نفرت کے درمیان ہے، تعمیر اور تباہی کے درمیان ہے، انسانیت اور بربریت کے درمیان ہے۔ بلوچستان کے عوام امن کے ساتھ جینے کا حق رکھتے ہیں۔ انہیں ایسے مستقبل کا حق حاصل ہے جہاں ان کے بچے خوف کے بغیر خواب دیکھ سکیں، جہاں تعلیم روشنی بنے، جہاں انصاف مضبوط ہو، اور جہاں ترقی ہر گھر تک پہنچے۔اور وہ دن ضرور آئے گا۔کیونکہ دہشت گردی وقتی ہوتی ہے، مگر قوموں کا عزم ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ خوف مٹ جاتا ہے، تشدد ختم ہو جاتا ہے، مگر وہ قومیں ہمیشہ قائم رہتی ہیں جو ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑتیں۔

دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے قوم کا آخری پیغام یہی ہے:تم اس قوم کو شکست نہیں دے سکتے جو اپنے لوگوں کو تنہا چھوڑنے سے انکار کر دے۔بلوچستان تنہا نہیں ہے۔اس کے پہاڑوں کے ساتھ کروڑوں دعائیں کھڑی ہیں۔اس کا درد پورے پاکستان کا درد ہے۔
اور اس کا مستقبل پوری قوم کے عزم سے محفوظ ہے۔ آج، کل اور ہمیشہقوم بلوچستان کے ساتھ کھڑی ہے۔