پاکستان کو دہشت گردی نہیں، سیاحت چاہیے

پاکستان کو دہشت گردی نہیں، سیاحت چاہیے؛ خوف نہیں، اعتماد چاہیے؛ ویرانی نہیں، رونق چاہیے؛ بندوقوں کی گھن گرج نہیں، آبشاروں کی روانی، دریاؤں کی موسیقی، پہاڑوں کی خاموش عظمت، صحراؤں کی وسعت، ساحلوں کی لہروں اور تاریخی ورثے کی داستانیں دنیا تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جو ایک ملک کو عالمی سیاحتی مرکز بنا سکتا ہے، مگر اس بے پناہ صلاحیت کو امن، مؤثر حکمتِ عملی، جدید انفراسٹرکچر، محفوظ ماحول اور مثبت قومی تشخص کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ عالمی یومِ سیاحت ہمیں محض سیاحت کی اہمیت یاد دلانے کا موقع نہیں دیتا بلکہ یہ سوال بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ ہم اپنی سرزمین کے حسن، ثقافت، تاریخ اور انسانی صلاحیت کو معاشی طاقت میں کب اور کیسے تبدیل کریں گے؟ پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی نے صرف انسانی جانیں ہی نہیں لیں، اس نے معیشت، سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں، تعلیمی ماحول، سماجی اعتماد اور ملک کے عالمی تاثر کو بھی شدید متاثر کیا۔ جب کسی خطے کی شناخت دھماکوں، حملوں یا عدم تحفظ کی خبروں سے ہونے لگے تو وہاں آنے والا سیاح سب سے پہلے اپنے تحفظ کے بارے میں سوچتا ہے، سرمایہ کار خطرے کا اندازہ لگاتا ہے اور مقامی کاروباری شخص اپنی سرگرمی محدود کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس جب کسی ملک کی پہچان اس کے قدرتی مناظر، تہذیبی رنگا رنگی، مہمان نوازی، محفوظ شہروں، تاریخی مقامات اور پُرامن معاشرے سے ہونے لگے تو دنیا کی نظریں خود بخود اس طرف متوجہ ہوتی ہیں۔

پاکستان کے لیے سیاحت محض تفریح کا شعبہ نہیں؛ یہ امن، روزگار، علاقائی ترقی، کاروباری وسعت، ثقافتی رابطے اور قومی معیشت کو مضبوط بنانے کا ایک وسیع راستہ بن سکتی ہے۔ ملک کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، ساحلی پٹی، صحرائی علاقوں، تاریخی شہروں، مذہبی مقامات اور قدرتی خطوں میں ایسی بے شمار کششیں موجود ہیں جو مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے بلند و بالا پہاڑ، سرسبز وادیاں، جھیلیں، دریا، آبشاریں، تاریخی مقامات اور منفرد ثقافتی روایات پاکستان کے قدرتی حسن کا ایک شاندار باب ہیں۔ سوات، کالام، مالم جبہ، چترال، کمراٹ، دیر، ناران، کاغان اور ہزارہ کے مختلف علاقے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر سیاحت کو منظم انداز میں ترقی دی جائے تو مقامی آبادی کے لیے روزگار اور کاروبار کے بے شمار دروازے کھل سکتے ہیں۔ یہاں ہوٹل، گیسٹ ہاؤس، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ، ٹور گائیڈز، دستکاری، مقامی خوراک، گھڑ سواری، ایڈونچر اسپورٹس، کیمپنگ اور دیگر خدمات ایک مکمل مقامی معیشت تشکیل دے سکتی ہیں۔ پنجاب کا منظرنامہ اس سے مختلف مگر اتنا ہی دلکش ہے۔ لاہور کے تاریخی دروازے، مغلیہ دور کے باغات، قلعے، مساجد، عجائب گھر، قدیم بازار، صوفی روایت اور منفرد کھانے کی ثقافت اسے تاریخی و ثقافتی سیاحت کا اہم مرکز بنا سکتے ہیں۔ ملتان کی صوفیانہ روایت، ٹیکسلا کا قدیم تہذیبی ورثہ، چولستان کی وسعتیں، فورٹ منرو کے پہاڑی مناظر اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں پھیلے تاریخی مقامات ایک ایسے سیاحتی نیٹ ورک کی بنیاد بن سکتے ہیں جو تاریخ، ثقافت، روحانیت اور قدرتی حسن کو ایک ہی سفر میں جوڑ دے۔

سندھ کے پاس بھی دنیا کو دکھانے کے لیے ایک پوری تہذیب موجود ہے۔ موئن جو دڑو صرف اینٹوں اور کھنڈرات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی ایک عظیم داستان ہے۔ کراچی کی ساحلی پٹی، مکلی کا تاریخی قبرستان، شاہجہان کی مسجد، تھر کے رنگ، صحرائی ثقافت، اجرک، سندھی ٹوپی، لوک موسیقی اور صوفی روایت سندھ کو ایک منفرد ثقافتی منزل بنا سکتے ہیں۔ اگر ان مقامات کو جدید سہولیات، مناسب تشہیر، محفوظ سفری راستوں اور تربیت یافتہ رہنماؤں کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو پاکستان کا قدیم تہذیبی ورثہ عالمی سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔ بلوچستان اپنی وسعت، خاموشی اور فطری تنوع کے اعتبار سے ایک الگ دنیا ہے۔ مکران کا ساحل، گوادر، ہنگول نیشنل پارک، کنڈ ملیر، زیارت کے پہاڑ، صحرائی مناظر، قدرتی چٹانیں اور منفرد قبائلی و ثقافتی روایات ایسے اثاثے ہیں جنہیں پائیدار سیاحت کے ذریعے معاشی مواقع میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ بلوچستان کے وسیع علاقوں میں سیاحت کے فروغ سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا ہوسکتا ہے اور ایسے کاروبار وجود میں آسکتے ہیں جو مقامی وسائل اور ثقافتی شناخت کو عالمی منڈی سے جوڑ دیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر پاکستان کے قدرتی حسن کی وہ تصویر پیش کرتے ہیں جس کی کشش سرحدوں سے ماورا ہے۔ بلند پہاڑ، برف پوش چوٹیاں، شفاف جھیلیں، سبز وادیاں، گلیشیئرز، دریا، تاریخی قلعے اور روایتی بستیاں دنیا بھر کے مہم جو، کوہ پیما، فوٹوگرافر، فطرت پسند اور ثقافتی سیاحوں کے لیے غیر معمولی کشش رکھتی ہیں۔ یہاں سیاحت کو مقامی لوگوں کے مفادات، ماحولیاتی تحفظ اور ثقافتی حساسیت کے ساتھ مربوط کیا جائے تو یہ خطے روزگار اور پائیدار ترقی کے مثالی مراکز بن سکتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں سیاحت کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس صلاحیت کو منظم قومی معاشی حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں؟ سیاحت کی ترقی صرف خوبصورت مقامات کی موجودگی سے نہیں ہوتی۔ ایک کامیاب سیاحتی معیشت کے لیے سڑکیں، ریل، ہوائی رابطے، صاف پانی، صحت کی سہولیات، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، محفوظ رہائش، تربیت یافتہ گائیڈز، ہنگامی خدمات، ماحول دوست انفراسٹرکچر، مؤثر مارکیٹنگ اور قابلِ اعتماد انتظامی نظام ضروری ہیں۔ ایک سیاح کسی وادی کا حسن دیکھنے آتا ہے لیکن اسے وہاں پہنچنے کے لیے محفوظ راستہ، رہنے کے لیے معیاری جگہ، معلومات حاصل کرنے کے لیے قابلِ اعتماد نظام اور کسی مشکل کی صورت میں فوری مدد بھی درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاحت کو محض ایک صوبائی یا محکمانہ سرگرمی سمجھنے کے بجائے قومی اقتصادی پالیسی کا حصہ بنانے کی ضرورت سامنے آتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نجی شعبے، مقامی حکومتوں، سرمایہ کاروں، ٹریول کمپنیوں، ہوٹل انڈسٹری، ایئر لائنز، تعلیمی اداروں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان مربوط تعاون کے بغیر سیاحتی صلاحیت مکمل معاشی قوت میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کے لیے قومی سطح پہ ایک مربوط حکمت عملی  وضع کرناوقت کی اہم ضرورت ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں کو ان کی خصوصیات کے مطابق سیاحتی کلسٹرز میں تقسیم کیا جائے۔ کہیں ماؤنٹین ٹورازم ہو، کہیں ساحلی سیاحت، کہیں تاریخی و ثقافتی سفر، کہیں مذہبی سیاحت، کہیں ایڈونچر ٹورازم، کہیں ایکو ٹورازم اور کہیں صحرائی ثقافت۔ اس طرح ہر خطہ اپنی منفرد شناخت کے ساتھ قومی سیاحتی برانڈ کا حصہ بن سکتا ہے۔ سیاحت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے ثمرات صرف بڑے کاروباری مراکز تک محدود نہیں رہتے۔ ایک سیاح جب کسی دور دراز علاقے میں پہنچتا ہے تو اس کی آمد سے ہوٹل کے مالک کے ساتھ ساتھ ڈرائیور، ریستوران کا کارکن، مقامی گائیڈ، دکاندار، فوٹوگرافر، دستکار، کسان، ماہی گیر، ٹرانسپورٹر اور گھریلو صنعت سے وابستہ خاندان بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یوں سیاحت دولت کو بڑے شہروں سے چھوٹے قصبوں، دیہات اور دور افتادہ علاقوں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

بالخصوص نوجوانوں کے لیے سیاحت ایک وسیع روزگار مارکیٹ پیدا کرسکتی ہے۔ ٹور مینجمنٹ، ہاسپیٹیلٹی، ایونٹ مینجمنٹ، فوٹوگرافی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ٹریول بلاگنگ، کوہ پیمائی، ریسکیو سروسز، زبانوں کی تربیت، کرافٹ ڈیزائن، فوڈ بزنس اور آن لائن بکنگ جیسے شعبوں میں نئی نسل کے لیے کاروباری مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ خواتین کے لیے گھر سے چلنے والے روایتی ہنر، کھانے، دستکاری، ٹیکسٹائل اور ثقافتی مصنوعات کو سیاحتی معیشت کے ساتھ جوڑ کر باعزت معاشی مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ یہاں ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے: امن اور سیاحت کا تعلق دو طرفہ ہے۔ پُرامن ماحول سیاحوں کو متوجہ کرتا ہے، جبکہ متحرک سیاحتی معیشت مقامی لوگوں کے لیے قانونی روزگار، کاروبار اور ترقی کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ جب کسی علاقے میں نوجوان کے پاس تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروبار کے راستے موجود ہوں تو معاشرہ سماجی استحکام کی طرف بڑھتا ہے۔ اس لیے سیاحت کو امن کے بعد شروع ہونے والی سرگرمی نہیں بلکہ امن کی معاشی بنیادوں کو مضبوط کرنے والے عوامل میں بھی شمار کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی کسی علاقے کو صرف جسمانی طور پر نقصان نہیں پہنچاتی، وہ اس کے مستقبل کے تصور کو بھی متاثر کرتی ہے۔ سیاحت اس کے برعکس مستقبل کا ایک مختلف تصور پیش کرتی ہے: ایسا مستقبل جس میں پہاڑوں پر سیاح ہوں، بازاروں میں رونق ہو، نوجوان گائیڈ بنیں، خواتین دستکاری فروخت کریں، مقامی کھانے دنیا کے ذائقوں سے متعارف ہوں، تاریخی مقامات پر تحقیق ہو، ہوٹل آباد ہوں، کاروبار بڑھیں اور مختلف قوموں اور ثقافتوں کے لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے ملیں۔ سیاحت لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ ایک غیر ملکی سیاح جب پاکستان آتا ہے تو وہ صرف ایک ملک نہیں دیکھتا؛ وہ یہاں کے لوگوں سے ملتا ہے، مقامی کھانا کھاتا ہے، ثقافت سمجھتا ہے، تاریخ سنتا ہے اور اپنے تجربات اپنے ملک واپس لے جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے اندر مختلف صوبوں سے آنے والے سیاح ایک دوسرے کی ثقافت، زبان، لباس، روایات اور طرزِ زندگی سے واقف ہوتے ہیں۔ اس طرح داخلی سیاحت قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے کا ایک نرم مگر مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

پاکستان میں ایک ایسی قومی سیاحتی مہم کی ضرورت ہے جو دنیا کو یہ پیغام دے کہ یہ سرزمین صرف خبروں کے عنوانات نہیں بلکہ ایک زندہ معاشرہ، متنوع ثقافت اور غیر معمولی قدرتی حسن رکھتی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں کسی ملک کی تصویر بنانے میں سرکاری اشتہارات سے زیادہ اہم حقیقی تجربات، سوشل میڈیا، ڈاکیومنٹریز، سفری بلاگز، بین الاقوامی ٹریول پلیٹ فارمز اور سیاحوں کی مثبت شہادتیں ہیں۔ ہمیں پاکستان کے حسن کو خود دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے Brand Pakistan کو صرف تجارتی نعرہ نہیں بلکہ ایک جامع قومی بیانیے کے طور پر تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ اس بیانیے کا مرکز قدرت، ثقافت، تاریخ، مہمان نوازی، امن، تنوع اور انسانی صلاحیت ہو۔ پاکستان کی تشہیر میں صرف پہاڑوں اور جھیلوں کی تصاویر کافی نہیں؛ دنیا کو پاکستان کے فنکار، دستکار، شیف، نوجوان، خواتین کاروباری شخصیات، مقامی کمیونٹیز، تاریخی ورثے کے محافظ اور امن کے خواہاں عام شہری بھی دکھانے ہوں گے۔مذہبی اور روحانی سیاحت بھی پاکستان کے لیے ایک اہم شعبہ بن سکتی ہے۔ مختلف اسلامی، سکھ، ہندو، بدھ اور دیگر تاریخی و مذہبی مقامات پاکستان کے تہذیبی تنوع کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر ان مقامات پر بنیادی سہولیات، معلوماتی مراکز، تربیت یافتہ گائیڈز، تحفظ کے مؤثر انتظامات اور آسان سفری نظام فراہم کیا جائے تو پاکستان مذہبی و ثقافتی سیاحت کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔ تاہم سیاحت کے فروغ کے ساتھ ماحولیاتی ذمہ داری کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر قدرتی مقامات پر بے ہنگم تعمیرات، پلاسٹک، کچرے، جنگلات کی کٹائی اور غیر منصوبہ بند سیاحتی سرگرمیاں بڑھتی رہیں تو وہی حسن جسے ہم دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں، رفتہ رفتہ ختم ہوسکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو ذمہ دار اور پائیدار سیاحت کے اصولوں کو بنیادی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ سیاح آئے، مگر فطرت محفوظ رہے؛ کاروبار بڑھے، مگر مقامی آبادی کے حقوق برقرار رہیں؛ انفراسٹرکچر بنے، مگر ماحول تباہ نہ ہو۔ سرمایہ کاروں کے لیے بھی پاکستان کا سیاحتی شعبہ ایک وسیع میدان فراہم کرسکتا ہے۔ ہوٹل، ریزورٹس، ایکو لاجز، کیمپنگ سائٹس، ٹریول ٹیکنالوجی، آن لائن بکنگ، ٹرانسپورٹ، ایڈونچر اسپورٹس، تفریحی مراکز، ثقافتی بازار اور مقامی مصنوعات کی ویلیو چین میں سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ حکومت کا کام صرف زمین یا سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسا ریگولیٹری ماحول بنانا ہونا چاہیے جہاں سرمایہ کار کو واضح قواعد، شفاف منظوری، سکیورٹی اور طویل مدتی پالیسی تسلسل حاصل ہو۔ اسی طرح مقامی آبادی کو سیاحت کا محض تماشائی نہیں بلکہ شریکِ کار بنانا ہوگا۔ جس وادی میں سیاح آتے ہیں وہاں کے لوگ سب سے پہلے اس معاشی سرگرمی سے فائدہ اٹھائیں۔ مقامی نوجوانوں کو گائیڈنگ اور ہاسپیٹیلٹی کی تربیت دی جائے، مقامی خواتین کو مارکیٹ تک رسائی ملے، دستکاری کے مراکز قائم ہوں اور مقامی خوراک کو برانڈ بنایا جائے۔ اس طریقے سے سیاحت باہر سے مسلط ہونے والی سرگرمی کے بجائے مقامی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ پاکستان کے تعلیمی ادارے بھی اس انقلاب میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں ٹورازم مینجمنٹ، ہاسپیٹیلٹی، ہیریٹیج کنزرویشن، ایکو ٹورازم، ٹریول ٹیکنالوجی اور ثقافتی مطالعات کے پروگراموں کو صنعت کے ساتھ جوڑا جائے۔ نوجوانوں کو صرف ملازمت کے لیے نہیں بلکہ سیاحتی کاروبار شروع کرنے کے لیے بھی تیار کیا جائے۔ یونیورسٹی، حکومت اور نجی شعبے کا یہ اشتراک نئی نسل کے لیے ایک وسیع معاشی ecosystem تشکیل دے سکتا ہے۔

 میڈیا کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے خوبصورت مقامات کو دکھانے والی معیاری ڈاکیومنٹریز، سفری پروگرام، بین الاقوامی سطح کی فوٹوگرافی، مختصر ڈیجیٹل فلمیں اور حقیقی سیاحتی کہانیاں پاکستان کا ایک متوازن عالمی تعارف پیش کرسکتی ہیں۔ ہمیں اپنے قومی منظرنامے کو صرف بحرانوں کے آئینے میں نہیں بلکہ امکانات کے زاویے سے بھی دنیا کو دکھانا ہوگا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ سیاحتی پالیسی میں سکیورٹی کو جدید انداز میں شامل کیا جائے۔ محفوظ شاہراہیں، ریسکیو سروسز، موسمی انتباہات، ایمرجنسی ہیلپ لائنز، ڈیجیٹل نقشے، رجسٹرڈ ٹور آپریٹرز اور مقامی انتظامیہ کے درمیان فوری رابطہ سیاحوں کے اعتماد کو بڑھا سکتا ہے۔ تحفظ کا مطلب یہ نہیں کہ سیاحت کو غیر ضروری پابندیوں میں جکڑ دیا جائے؛ مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں قانون، سہولت اور ذمہ داری ایک دوسرے کے ساتھ چلیں۔ پاکستان کو اپنے قومی بیانیے میں بھی ایک بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ دنیا کو یہ پیغام ملنا چاہیے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد کے ساتھ ساتھ امن، ترقی، تعلیم، ثقافت، تجارت اور سیاحت کے لیے بھی کھڑا ہے۔ دہشت گردی ہماری سرزمین کا تعارف نہیں؛ یہ ایک چیلنج ہے جس کا مقابلہ پاکستانی معاشرہ کر رہا ہے۔ پاکستان کی اصل شناخت اس کے لوگوں کی محنت، مہمان نوازی، ثقافتی تنوع، قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور امن کی خواہش میں ہے۔ عالمی یومِ سیاحت اسی سوچ کو آگے بڑھانے کا بہترین موقع ہے۔ ہمیں اس دن صرف تقریبات، سیمینارز اور رسمی پیغامات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس موقع کو قومی عہد میں تبدیل کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے ہر خوبصورت خطے کو محفوظ، قابلِ رسائی اور معاشی طور پر فعال بنانے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کی جائے گی؛ مقامی لوگوں کو ترقی کا حصہ بنایا جائے گا؛ سرمایہ کاری کے لیے سہولت پیدا کی جائے گی؛ ثقافتی ورثے کی حفاظت ہوگی؛ ماحول کو ترجیح دی جائے گی اور دنیا کے سامنے پاکستان کی مثبت، حقیقت پسندانہ اور متنوع تصویر پیش کی جائے گی۔ آج پاکستان کے سامنے انتخاب محض دو شعبوں کے درمیان نہیں بلکہ دو مختلف مستقبلوں کے درمیان ہے۔ ایک طرف خوف، انتہا پسندی، عدم تحفظ، معاشی جمود اور ویرانی کی وہ قوتیں ہیں جو ترقی کے راستے بند کرتی ہیں؛ دوسری طرف امن، سیاحت، تجارت، تعلیم، ثقافت، سرمایہ کاری اور روزگار کا وہ راستہ ہے جو معاشرے کو آگے لے جاسکتا ہے۔ ہمیں اپنی قومی ترجیحات میں دوسری سمت کو مضبوط بنانا ہوگا۔ پاکستان کے پہاڑ انتظار کر رہے ہیں کہ دنیا ان کی بلندی دیکھے۔ اس کی وادیاں چاہتی ہیں کہ ان کی سبزہ زاروں میں زندگی کی رونق بڑھے۔ اس کے دریا اپنی روانی کے ساتھ امن کا پیغام لے کر چل سکتے ہیں۔ اس کے ساحل نئے معاشی مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کے صحرا اپنی تہذیب کی داستان سنا سکتے ہیں۔ اس کے تاریخی شہر صدیوں کی کہانیاں دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے نوجوان سیاحوں کے میزبان، کاروباری اور سفیر بن سکتے ہیں۔ اس کی خواتین اپنے ہنر کو عالمی منڈی تک پہنچا سکتی ہیں۔ اس کے سرمایہ کار نئے کاروباری شعبے پیدا کرسکتے ہیں۔

ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان امکانات کو دیکھیں، انہیں مربوط کریں اور عمل میں تبدیل کریں۔ پاکستان کو ایسی ترقی چاہیے جس میں امن بنیاد ہو، سیاحت محرک ہو، سرمایہ کاری ذریعہ ہو، نوجوان قوت ہوں، ثقافت شناخت ہو، ماحول امانت ہو اور مقامی آبادی اصل شریک ہو۔ پاکستان کو دہشت گردی نہیں، سیاحت چاہیے۔ ایسی سیاحت جو روزگار پیدا کرے، ایسی سیاحت جو علاقوں کو ترقی دے، ایسی سیاحت جو ثقافتوں کو قریب لائے، ایسی سیاحت جو دنیا کے سامنے پاکستان کا مثبت تعارف بنے، ایسی سیاحت جو سرمایہ کار کو موقع دے، نوجوان کو ہنر دے، مقامی آبادی کو آمدنی دے، خواتین کو معاشی شرکت دے اور آنے والی نسلوں کو محفوظ قدرتی و ثقافتی ورثہ دے۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں؛ یہ بلند پہاڑوں، وسیع میدانوں، قدیم تہذیبوں، صوفی روایت، متنوع ثقافتوں، سمندری ساحلوں، صحرائی رنگوں اور زندہ دل انسانوں کی سرزمین ہے۔ اب وقت ہے کہ اس حسن کو خوف کی خبروں سے آزاد کرکے ترقی کی کہانی میں تبدیل کیا جائے۔

عالمی یومِ سیاحت پر ہمارا پیغام واضح ہونا چاہیے: امن آئے گا تو سیاحت بڑھے گی، سیاحت بڑھے گی تو روزگار پیدا ہوگا، روزگار بڑھے گا تو کاروبار پھیلے گا، کاروبار پھیلے گا تو مقامی معیشت مضبوط ہوگی، اور مضبوط معیشت پاکستان کو ایک زیادہ پُرامن، خوش حال اور ترقی یافتہ مستقبل کی طرف لے جائے گی۔ یہی پاکستان کا حقیقی سیاحتی سفر ہے۔ پاکستان کو دنیا سے کٹنے کی نہیں، دنیا کو اپنے حسن، ثقافت اور مہمان نوازی سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اور اس سفر کا راستہ دہشت گردی سے نہیں، سیاحت سے گزرتا ہے۔