یومِ شہدائے پولیس 4 اگست : امن کے محافظوں کو سلام

ہر قوم کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف کیلنڈر کی تاریخ نہیں بلکہ قومی شعور، اجتماعی احساس اور قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں 4 اگست، یومِ شہدائے پولیس، انہی باوقار دنوں میں سے ایک ہے۔ یہ دن ان بہادر پولیس افسران اور جوانوں کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جنہوں نے قانون کی سربلندی، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور وطن کے امن و استحکام کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

ہماری روزمرہ زندگی کا سکون، بازاروں کی رونق، تعلیمی اداروں کی چہل پہل اور عبادت گاہوں کا امن اس وقت ممکن ہوتا ہے جب پولیس کے اہلکار دن رات اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوتے ہیں۔ وہ صرف جرائم پیشہ عناصر ہی نہیں بلکہ دہشت گردوں، شدت پسندوں، اغوا کاروں اور دیگر سماج دشمن قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے رہتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے دہشت گردی کی ایک کڑی آزمائش دیکھی۔ اس مشکل دور میں پاک فوج، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خصوصاً پولیس نے بے مثال جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے متعدد پولیس افسران اور جوان فرض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کر گئے، مگر ان کے حوصلے کبھی متزلزل نہ ہوئے۔ انہی قربانیوں نے دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان، پنجاب، سندھ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان غرضیکہ ملک خداداد کا چپہ چپہ پولیس کی ہرقسم کی قربانی سے لہو میں رنگا ہوا ہے اور روزِ قیامت گواہی دے گا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹے ملک اور اپنی عوام کی جان ومال کی حفاظت کی خاطر دہشت گردوں اور ہر قسم کے جرائم پسند عناصر سے ٹکرا گئے اور ملک پہ آنچ نہیں دی اور اپنی جان کا نذرانے پیش کرتے آئے ہیں۔  شہید کو جو مقام حاصل ہے اس کا احاطہ کرنے کی صلاحیت انسانی شعور میں بھی موجود نہیں اللہ کی ذات ہی اس کی گواہ ہے اس جذبے کی، اس فکر کی، اس قربانی کی۔

قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تم شعور نہیں رکھتے۔”سورۃ البقرہ:

پولیس کی ذمہ داریاں صرف جرائم کی روک تھام تک محدود نہیں ہوتیں۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ، قانون کی عملداری، ٹریفک کا نظم، قدرتی آفات میں امدادی خدمات، مذہبی و قومی تقریبات کی سکیورٹی اور ہنگامی حالات میں امن و امان کی بحالی بھی اسی ادارے کے اہم فرائض ہیں۔ ایک مضبوط پولیس دراصل ایک مضبوط ریاست کی علامت ہوتی ہے۔ اگرچہ پولیس کے شہداء اپنی سرکاری ذمہ داری ادا کرتے ہوئے جان قربان کرتے ہیں، لیکن ان کا مقصد حق، انصاف، امن اور انسانی جانوں کا تحفظ ہوتا ہے۔ اسی لیے پوری قوم انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ہر شہید کے پیچھے ایک ایسا خاندان ہوتا ہے جس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہے۔ ایک ماں اپنے بیٹے کی راہ تکتے تکتے عمر گزار دیتی ہے، ایک باپ فخر اور غم کے ملے جلے جذبات کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے، ایک بیوہ صبر و استقامت کی نئی مثال بنتی ہے اور معصوم بچے اپنے والد کی شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ان خاندانوں کی کفالت، تعلیم، علاج اور باوقار زندگی کی ضمانت دینا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ شہداء کو حقیقی خراجِ عقیدت صرف یادگاری تقریبات سے نہیں بلکہ ان کے مشن کو آگے بڑھانے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی، اعلیٰ تربیت، معیاری تحقیقاتی سہولیات، فارنزک معاونت، حفاظتی سازوسامان اور پیشہ ورانہ وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ نئے چیلنجز کا زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کو مزید فروغ دینا بھی ناگزیر ہے۔ قانون کی پاسداری، بروقت اطلاع، تحقیقاتی عمل میں تعاون اور ذمہ دار شہری رویہ نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ معاشرے کو زیادہ محفوظ بھی بناتا ہے۔ آج جدید پولیسنگ شفافیت، احتساب، عوامی شمولیت اور انسانی حقوق کے احترام پر استوار ہے۔ پاکستان پولیس بھی ڈیجیٹل نظام، کرائم ڈیٹا بیس، فرانزک سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی استعداد میں اضافہ کر رہی ہے، تاہم اس سفر کو مزید تیز اور مؤثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ پولیس کو صرف ایک سرکاری ادارہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کے محافظ کے طور پر دیکھے۔ سوشل میڈیا کے دور میں افواہوں اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے بجائے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانا اور ریاستی اداروں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شہدائے پولیس ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ قومیں قربانی، دیانت، قانون کی پاسداری، اتحاد اور اجتماعی ذمہ داری کے جذبے سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر ہم واقعی ان عظیم قربانیوں کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں انصاف، برداشت، احترامِ قانون اور قومی یکجہتی ہماری اجتماعی شناخت بن جائیں۔4اگست صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید ہے کہ ہم اپنے ان محافظوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ان کا لہو ہماری آزادی، امن اور ریاستی استحکام کی بنیادوں میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام ہمیشہ عزت، وقار اور حب الوطنی کی علامت کے طور پر زندہ رہے گا۔ ہمیں اہنی بہادر پولیس پر فخر ہے کہ جس کی بدولت ہم سکھ کا سانس لیتے ہیں۔

آئیے! آج اس عزم کی تجدید کریں کہ ہم قانون کا احترام کریں گے، امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں گے اور ان عظیم شہداء کے خاندانوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ یہی ان کے خون کا حقیقی قرض اور ان کی قربانیوں کا سچا اعتراف ہے۔

سلام شہدائے پولیس!

سلام محافظانِ امن!

پاکستان پائندہ باد!